وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت انسداد پولیو ٹاسک فورس کا اجلاس

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے پولیو کے خاتمے کیلئے قائم صوبائی ٹاسک فورس (پی ٹی ایف) کے اجلاس کی صدارت کی اور صوبے میں پولیو وائرس کے خلاف پیش رفت کا جائزہ لیا۔بدھ کو وزیر اعلی ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ سندھ نے 2024 میں 23 اور 2025 میں نو کیسز سے پولیو کا بوجھ کم کر کے 2026میں اب تک صرف ایک …

کراچی۔ 16 ستمبر (اے پی پی):وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے پولیو کے خاتمے کیلئے قائم صوبائی ٹاسک فورس (پی ٹی ایف) کے اجلاس کی صدارت کی اور صوبے میں پولیو وائرس کے خلاف پیش رفت کا جائزہ لیا۔بدھ کو وزیر اعلی ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ سندھ نے 2024 میں 23 اور 2025 میں نو کیسز سے پولیو کا بوجھ کم کر کے 2026میں اب تک صرف ایک کیس کر دیا ہے، جبکہ 2026میں وائرس کے پھیلا ئومیں کمی آئی ہے۔

وزیراعلی نے بیماری کے خاتمے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی کہ 21سے 27ستمبر تک ہونے والی ذیلی قومی حفاظتی ٹیکہ جات مہم (ایس این آئی ڈیز) سے قبل ویکسینیشن، نگرانی اور کمیونٹی سے رابطے کی کوششیں مزید تیز کی جائیں۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کی جانب سے حاصل کی گئی پیش رفت حوصلہ افزا ہے اور ہمارے صحت کارکنوں، ضلعی انتظامیہ اور شراکت دار اداروں کی محنت کی عکاسی کرتی ہے لیکن ہمارا مشن اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک ہر بچے کو تحفظ حاصل نہیں ہوجاتا اور ہر ضلع سے وائرس کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔ کسی بھی بچے کو غفلت، کمزور نگرانی یا فالو اپ نہ ہونے کے باعث ویکسین سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔

وزیراعلی ہائوس میں منعقدہ اجلاس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، میئر کراچی مرتضی وہاب، آئی جی پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو، کمشنر کراچی حسن نقوی، صوبائی سیکرٹریز، صوبائی کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (ای او سی) شہریار گل، سندھ حکومت کے شراکت دار اداروں اور ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی جبکہ دیگر اضلاع کے کمشنرز، ڈی آئی جیز، ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایس پیز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے بتایا کہ پاکستان میں وائلڈ پولیو وائرس (ڈبلیو پی وی ون) کے کیسز 2024 میں 74سے کم ہوکر 2025میں 31رہ گئے جبکہ 2026میں اب تک صرف 3 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

سندھ میں رواں سال صرف ایک کیس ریکارڈ کیا گیا ہے جو 10فروری کو سجاول سے رپورٹ ہوا، جبکہ گزشتہ سال 9اور 2024میں 23کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ای او سی کے انچارج شہریار گل نے وزیراعلی کو بتایا کہ ماحولیاتی نگرانی کے اعدادوشمار سے صوبے بھر میں وائرس کی گردش میں نمایاں کمی ظاہر ہوتی ہے، مثبت ماحولیاتی نگرانی کے مقامات کی تعداد مارچ 2025میں 29کی بلند ترین سطح سے کم ہوکر اگست 2026میں صرف 5رہ گئی ہے۔ کراچی سے باہر نگرانی کے تمام 14 مقامات اس وقت منفی ہیں جبکہ کراچی کے 15میں سے 6مقامات بدستور مثبت ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس کی منتقلی شہر کے محدود علاقوں تک تیزی سے محدود ہورہی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 2025میں وائرس کی زیادہ منتقلی کے موسم کے دوران کراچی میں پولیو کا کوئی تصدیق شدہ کیس سامنے نہ آنا، اس کے باوجود کہ بعض ماحولیاتی نمونے مثبت تھے، معمول کی حفاظتی ویکسینیشن اور بار بار کی جانے والی ویکسینیشن مہمات کے ذریعے حاصل ہونے والی آبادی کی مضبوط قوتِ مدافعت کی عکاسی کرتا ہے۔چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ نے مشاہدہ کیا کہ مسلسل حفاظتی ٹیکہ جات کی کوششوں نے ان علاقوں میں بھی کلینیکل کیسز کی روک تھام میں مدد دی ہے جہاں ماحولیاتی نگرانی کے ذریعے وائرس کی گردش کا پتا چل رہا ہے۔پولیو کیسز میں کمی کے رجحان پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلی نے زور دیا کہ پولیو کا ایک کیس بھی ایک کیس زیادہ ہے اور تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی کہ ویکسین سے محروم بچوں، انکار کرنے والے والدین اور انتظامی خامیوں کے معاملے میں زیرو ٹالرنس کا طریقہ اختیار کیا جائے۔

نگرانی کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے کراچی اور دیگر نشاندہی کردہ ہائی رسک علاقوں میں ویکسینیشن اور نگرانی کی کوششیں مزید تیز کرنے، کراچی ایکشن پلان 2.0 پر مکمل عمل درآمد، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام کے درمیان بہتر رابطہ، نقل مکانی کرنے والی اور متحرک آبادیوں کی زیادہ قریب سے نگرانی اور کم سہولت یافتہ آبادیوں میں معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کی کوریج بہتر بنانے کا حکم دیا۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی نمونے انتباہی اشارے ہیں، وائرس کے ایسے بچوں تک پہنچنے سے پہلے ہمیں کارروائی کرنا ہوگی جو اس کے لیے حساس ہیں۔

اجلاس میں 2026کے دوران چلائی جانے والی خصوصی بوسٹر ڈوز مہمات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ای او سی کے کوآرڈینیٹر شہریار گل نے بتایا کہ کراچی میں تقریبا 30 لاکھ زبانی پولیو ویکسین (او پی وی) کی خوراکیں اور 28 لاکھ 90 ہزار بوسٹر ڈوز دی گئیں جبکہ دیگر ڈویژنز میں مہمات کے دوران تقریبا 27 لاکھ او پی وی خوراکیں اور 25 لاکھ 80 ہزار بوسٹر ڈوز دی گئیں۔ عمر کی حد میں توسیع کی حکمت عملی کے ذریعے سکولوں اور کمیونٹی کی سطح پر اقدامات کے ذریعے بڑے بچوں تک بھی رسائی حاصل کی گئی۔

وزیراعلی نے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں کام کرنے والے فرنٹ لائن ورکرز، اساتذہ، کمیونٹی موبلائزرز اور محکمہ صحت کے عملے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں پولیو کے خاتمے کے پروگرام کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔ٹاسک فورس کو بتایا گیا کہ جولائی 2026 کی ایس این آئی ڈیز مہم کے بعد ان بچوں کو ویکسین پلانے کے لیے 10 روزہ خصوصی فالو اپ مہم شروع کی گئی جو ابتدائی طور پر ویکسین سے محروم رہ گئے تھے۔ ویکسین سے محروم رہ جانے والے 146,149 بچوں میں سے 23,500 سے زائد بچوں کو انکار کرنے والے اور دستیاب نہ ہونے والے بچوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ہدفی کوششوں کے ذریعے بعد ازاں ویکسین دی گئی۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ کمیونٹی سے مضبوط رابطے اور عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے ویکسین سے انکار کی شرح مزید کم کی جائے۔

انہوں نے زور دیا کہ والدین کا اعتماد حاصل کرنا پروگرام کی کامیابی کے لیے بدستور انتہائی اہم ہے۔اجلاس میں 21 سے 27 ستمبر تک ہونے والی ایس این آئی ڈیز مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا، جس کے دوران سندھ بھر میں 5 سال سے کم عمر تقریبا ایک کروڑ بچوں کو ویکسین پلائی جائے گی۔ مہم 23 مکمل اضلاع اور 7 جزوی اضلاع کی منتخب یونین کونسلز میں چلائی جائے گی، جس میں 80ہزار سے زائد فرنٹ لائن ورکرز حصہ لیں گے۔حکام نے بتایا کہ سکیورٹی فرائض کے لیے 26 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔

وزیراعلی نے مہم کے لیے صوبائی حکومت کی مالی معاونت کا اعادہ کیا اور بتایا کہ فرنٹ لائن ورکرز کے لیے مراعات میں 28 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے تمام اضلاع کو ہدایت کی کہ مہم شروع ہونے سے قبل ویکسین کی فراہمی، لاجسٹکس، افرادی قوت کی تعیناتی اور نگرانی کے انتظامات سمیت باقی ماندہ تیاریوں کے اقدامات مکمل کیے جائیں۔وزیراعلی نے مہم کے معیار کے اشاریوں کا بھی جائزہ لیا اور انہیں بتایا گیا کہ سندھ نے معمول کی حفاظتی ویکسینیشن، نگرانی، افرادی قوت اور کمیونٹی سے رابطے کے شعبوں میں اہم اصلاحات پر کام جاری رکھتے ہوئے کارکردگی کے مضبوط معیار کو برقرار رکھا ہے۔