تمباکو سے پاک نسل کی تشکیل کیلئے مؤثر قانون سازی ناگزیر ہے،سگریٹ پیکٹس پر گرافک ہیلتھ وارننگز کا حجم 85 فیصد تک بڑھایا جائے ، مرتضیٰ سولنگی
تمباکو سے پاک نسل کی تشکیل کیلئے مؤثر قانون سازی ناگزیر ہے،سگریٹ پیکٹس پر گرافک ہیلتھ وارننگز کا حجم 85 فیصد تک بڑھایا جائے ، مرتضیٰ سولنگی

مزید خبریں
اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):صدرِ پاکستان کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہےکہ تمباکو مسلسل انسانی جانیں لے رہا ہے،اس کے استعمال میں کمی کیلئے TAPS پر مکمل پابندی اور سگریٹ پیکٹس پر گرافک ہیلتھ وارننگز کا حجم بڑھانا انتہائی اہم اقدامات ہیں ۔تمباکو کی تشہیر، فروغ اور اسپانسرشپ (TAPS) پر مکمل پابندی عائد کرکے قوانین پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جائےتاکہ تمباکو مصنوعات کی کشش اور نمائش میں کمی لائی جا سکے اورنوجوانوں کو ان مصنوعات کی طرف راغب ہونے سے روکا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) کے زیر اہتمام ’’تمباکو ایڈورٹائزنگ، پروموشن اور اسپانسرشپ (TAPS) کے ضوابط کو مضبوط بنانا اور سگریٹ پیکٹس پر گرافک ہیلتھ وارننگز میں اضافہ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سیمینار میں ماہرین صحت، پالیسی سازوں، سرکاری حکام، صحافیوں، سول سوسائٹی، ماہرین تعلیم، میڈیا پروفیشنلز اور یوتھ ایمبیسیڈرز نے شرکت کی۔مہمان خصوصی مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ تمباکو مسلسل انسانی جانیں لے رہا ہے اور اگر اس کے خلاف اقدامات کو مزید موثر اور تیز نہ کیا گیا تو مزید قیمتی جانیں ضائع ہوتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تمباکو ہر سال 80 لاکھ سے زائد اموات کا سبب بنتا ہے، اس لیے تمباکو سے پاک نسل کی تشکیل کیلئے مضبوط پالیسی اور مؤثر قانون سازی ناگزیر ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئےرکن قومی اسمبلی حمیرا اخترچغتائی نے کہا کہ نوجوان براہ راست اشتہارات کے علاوہ بالواسطہ تشہیری ذرائع سے بھی متاثر ہوتے ہیں، جن میں پرکشش پیکجنگ، مختلف تقریبات کی اسپانسرشپ اور آن لائن مواد شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ذرائع کے ذریعے تمباکو مصنوعات کو بعض اوقات کم نقصان دہ یا پرکشش بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔انہوں نے پاکستان میں تمباکو کنٹرول کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ قوانین کے باوجود TAPS کی مختلف شکلیں اب بھی سامنے آتی ہیں، جنہیں مکمل طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
حمیرا اختر چغتائی نے TAPS قوانین کو مزید مضبوط بنانے اور گرافک ہیلتھ وارننگز کو 85 فیصد تک بڑھانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔سپارک کے پروگرام مینیجر ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے کہا کہ موجودہ پابندیوں کے باوجود تمباکو کی تشہیر مختلف بالواسطہ طریقوں سے صارفین کے رویوں کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق جن ممالک میں TAPS پر مکمل پابندی عائد ہے وہاں بچوں اور نوجوانوں میں تمباکو کے استعمال میں کمی دیکھی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تمباکو کنٹرول کے شعبے میں پیش رفت کی ہے تاہم قانون سازی میں موجود خلا کو ختم کرنے اور قوانین پر موثر عملدرآمد کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمباکو کی براہ راست اور بالواسطہ تمام تشہیری سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے مزید کہا کہ مضبوط اور وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کی جانے والی گرافک ہیلتھ وارننگز تمباکو نوشی کے خلاف مؤثر ذریعہ ہیں۔ ایسی وارننگز موجودہ صارفین کو سگریٹ نوشی ترک کرنے کی ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ نئے افراد بالخصوص نوجوانوں کو تمباکو نوشی شروع کرنے سے روکنے میں بھی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
سی ٹی ایف کے کنٹری نمائندہ انیس سکھیرہ نے کہا کہ TAPS کی مختلف شکلیں اب بھی نوجوانوں تک پہنچ رہی ہیں اور انہیں متاثر کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تمباکو کنٹرول کے قوانین اور ان کے نفاذ میں موجود خلا ختم کرنا ہوں گے۔ گرافک ہیلتھ وارننگز کا حجم 85 فیصد تک بڑھانے سے نوجوانوں کیلئے زیادہ محفوظ اور صحت مند ماحول پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ہیلتھ سائنسز اکیڈمی کے الائیڈ ہیلتھ سائنسز، پھیپھڑوں کی بیماریوں اور تمباکو کنٹرول کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر مطیع الرحمن نے کہا کہ تمباکو کا نقصان صرف انسانی صحت تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات صحت کے نظام اور ملکی معیشت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسی ثقافت کو فروغ دیا جائے جس میں صحت، فلاح و بہبود اور قومی ترقی کو ترجیح حاصل ہو۔سیشن کے دوران مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ نوجوانوں کو تمباکو مصنوعات کی تشہیر اور بالواسطہ مارکیٹنگ سے محفوظ رکھنے کیلئے موجودہ قوانین کا مؤثر نفاذ ضروری ہے۔ شرکاء نے گرافک ہیلتھ وارننگز میں اضافہ، TAPS کے مکمل خاتمے اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ و نگرانی کو تمباکو کنٹرول کی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا۔
سیشن میں ڈائریکٹر جنرل آپریشنز پیمرا سجاد احمد، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وقار، ٹوبیکو کنٹرول سیل کے محمد آفتاب احمد، پالیسی سازوں، سرکاری حکام، صحافیوں، سول سوسائٹی نمائندگان، ماہرین تعلیم، میڈیا پروفیشنلز اور یوتھ ایمبیسیڈرز نے شرکت کی۔شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوان نسل کو تمباکو کے نقصانات سے محفوظ رکھنے کیلئے آگاہی، قانون سازی، نگرانی اور عملدرآمد کے اقدامات کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے جبکہ سگریٹ پیکٹس پر گرافک ہیلتھ وارننگز کو 85 فیصد تک بڑھانے اور تمباکو ایڈورٹائزنگ، پروموشن اور اسپانسرشپ کے تمام ذرائع کی روک تھام کیلئے متعلقہ اداروں کو اپنا کردار مزید موثر انداز میں ادا کرنا چاہیے۔








