خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین عبدالسلام آفریدی نے کی۔
قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ذیلی کمیٹی کا اجلاس، ہزاروں اساتذہ کی سینیارٹی مسئلہ حل کرنے کےلئے قانونی ترمیم کی ہدایت

مزید خبریں
پشاور۔ 16 ستمبر (اے پی پی):خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین عبدالسلام آفریدی نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین و ممبران صوبائی اسمبلی عدنان خان، ثوبیہ شاہد اور شازیہ جدون کے علاوہ ڈپٹی سیکرٹری و ڈائریکٹر محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، متعلقہ افسران، صدر آل ٹیچر ایسوسی ایشن، محکمہ قانون , ایڈووکیٹ جنرل آفس اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سابقہ اجلاس میں کمیٹی اراکین کی جانب سے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کو دی گئی ہدایات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد مختلف کیڈرز سے تعلق رکھنے والے ہزاروں اساتذہ کی سینیارٹی کا مسئلہ تھا، جنہیں 2014، 2015 اور 2018 میں نیشنل ٹیسٹنگ سروس (NTS) کے ذریعے بھرتی کیا گیا تھا اور بعد ازاں 2018 میں باقاعدہ (Regularize) کیا گیا۔ آل ٹیچر ایسوسی ایشن کے صدر نے کمیٹی کو اساتذہ کا موقف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ان سے بعض جونیئر اساتذہ کو سینیارٹی میں فوقیت دیتے ہوئےترقیاں دی گئی ہیں اس لیے ان اساتذہ کی سینیارٹی بھی ان کے ابتدائی تقرری کے سال سے تسلیم کی جانی چاہیے۔
چیئرمین کمیٹی عبدالسلام آفریدی نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حکام کو ہدایت کی کہ اگر اس معاملے کے حوالے سے عدالت میں کوئی کیس زیرِ سماعت نہیں اور کسی امیدوار یا فریق کی جانب سے کوئی قانونی رکاوٹ موجود نہیں تو متعلقہ ایکٹ میں ضروری ترمیم کی جائے، تاکہ مختلف متاثرہ کیڈرز سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی سینیارٹی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے کمیٹی کو تجویز دی کہ اگر مذکورہ ملازمین کو 2014 سے سینیارٹی دینے کے لیے قانون میں ترمیم کی جاتی ہے تو ترمیمی قانون میں یہ وضاحت بھی شامل کی جائے کہ اس بنیاد پر انہیں ماضی کے مالی فوائد (Back Benefits) کا دعویٰ کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے پہلے سے دی گئی ترقیوں پر کوئی اثر پڑے گا۔ اس تجویز کے تحت اساتذہ کی سینیارٹی 2014 سے تسلیم کرنے اور ماضی کے مالی فوائد کا دعویٰ نہ کرنے کی تجویز پر کمیٹی اراکین اور آل ٹیچر ایسوسی ایشن کے صدر نے اتفاق کیا۔ چیئرمین کمیٹی عبدالسلام آفریدی نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حکام کو ہدایت کی کہ محکمہ قانون، ایڈووکیٹ جنرل آفس اور دیگر متعلقہ محکموں کے باہمی مشاورت سے ترمیمی مسودہ قانون تیار کیا جائے، تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی قانونی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ چیئرمین کمیٹی نے مزید ہدایت کی کہ مذکورہ ترمیمی مسودہ آئندہ اجلاس میں کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے
]جہاں اس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اسے صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ اساتذہ کی سینیارٹی کے مسئلے کو قانونی اور متوازن طریقے سے حل کرنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی مشاورت سے اقدامات مکمل کریں، تاکہ متاثرہ اساتذہ کے دیرینہ مسئلے کا قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔







