اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی محفوظ، ذمہ دارانہ اور شفاف ترقی کے لیے عالمی سطح پر مربوط کوششیں کرتے ہوئے حفاظتی ضوابط وضع کرنے پر زور دیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی سطح پر حفاظتی ضوابط وضع کرنے کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔17ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی محفوظ، ذمہ دارانہ اور شفاف ترقی کے لیے عالمی سطح پر مربوط کوششیں کرتے ہوئے حفاظتی ضوابط وضع کرنے پر زور دیا ہے۔
شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کو اس بات پر مشترکہ مفاہمت کی ضرورت ہے کہ مصنوعی ذہانت کو محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں کس طرح آگے بڑھایا جائے اور کب اس کے بڑھتے ہوئے طاقتور نظاموں کے لیے زیادہ مضبوط حفاظتی اقدامات یا ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اضافی تدابیر ضروری ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے حقیقی بین الاقوامی تعاون اور مربوط عالمی کوششیں درکار ہیں۔
جغرافیائی سیاسی تقسیم کے باعث دنیا مصنوعی ذہانت کے تحفظ کے معاملے میں غیر مؤثر مسابقت کی متحمل نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہا کہ اعتماد کے فروغ کے لیے ایسے حفاظتی ضوابط ضروری ہیں جو مصنوعی ذہانت کو محفوظ، شفاف اور جوابدہ بنائیں اور انسانی وقار کو مرکزی حیثیت دیں۔ انہوں نے کہا کہ بے قابو مصنوعی ذہانت، موسمیاتی بحران اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات جیسے سنگین عالمی خطرات کے باعث بین الاقوامی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پائیدار ترقی کی رفتار بڑھانے، تعلیم کو بہتر بنانے، صحت کے نظام مضبوط کرنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم اس شعبے میں کام کرنے والے متعدد ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اے آئی کی ترقی اس کے ممکنہ خطرات کو سمجھنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض ماہرین نے اے آئی کی ترقی عارضی طور پر روکنے جبکہ بہت سے دیگر نے حفاظتی ضوابط وضع کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اس لیے اے آئی کی ترقی سے متعلق خصوصاً اس کے فرنٹ لائن ڈویلپرز کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو اپنے شہریوں کو مصنوعی ذہانت سمیت اس سے لاحق خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی، تاہم عالمی سطح پر تعاون بھی ناگزیر ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت سرحدوں تک محدود نہیں اور اس کے خطرات بھی سرحدوں سے ماورا ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ الگ الگ، ناقابل تصدیق اور غیر یکساں انداز میں نافذ کی جانے والی رضاکارانہ پابندیاں مسئلے کا حل نہیں، اگر خطرات بہت زیادہ بڑھنے پر اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنا مقصود ہے تو محض نیک ارادوں سے کام نہیں چلے گا۔








