لندن۔17ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس نظام میں اصلاحات، توانائی کے شعبے کی تنظیم نو، نجکاری اور سرکاری مالیات کے شعبوں میں اصلاحات کے نتیجے میں ملکی معیشت میں پائیدار استحکام پیدا ہو رہا ہے، تاہم حکومت کسی ایک سال کی کامیابی پر مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ سکتی بلکہ اصلاحات کے اس تسلسل کو برقرار رکھنا …
شعبہ توانائی کی تنظیم نو و مالیاتی اصلاحات سے معاشی استحکام ،روشن ڈیجیٹل اکائونٹس سکیم آگے بڑھ رہی ہے، سینیٹر محمد اورنگزیب

مزید خبریں
لندن۔17ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس نظام میں اصلاحات، توانائی کے شعبے کی تنظیم نو، نجکاری اور سرکاری مالیات کے شعبوں میں اصلاحات کے نتیجے میں ملکی معیشت میں پائیدار استحکام پیدا ہو رہا ہے، تاہم حکومت کسی ایک سال کی کامیابی پر مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ سکتی بلکہ اصلاحات کے اس تسلسل کو برقرار رکھنا ہوگا،روشنڈیجیٹل اکائونٹس سکیم کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے،پاکستان اپنے مالیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات میں اب امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کے بہائو پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہا ہے۔
یہ بات انہوں نے جمعرات کولندن میں ترسیلات زر اورروشن ڈیجیٹل اکائونٹس روڈ شوسے خطاب کرتے ہوئے کہی۔وزیرخزانہ نے کہاکہ مالیاتی محاذ پر گزشتہ 22 سال میں سب سے کم مالیاتی خسارہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ مسلسل تین سال سے پرائمری سرپلس حاصل کیا جا رہا ہے، یہ کسی ایک سال کی کامیابی نہیں بلکہ گزشتہ تین سال سے جاری مستقل رجحان ہے جسے مستقبل میں بھی برقرار رکھنا ضروری ہے،بیرونی شعبے میں بھی ملک کی پوزیشن میں نمایاں بہتری آئی ہے،زرمبادلہ کے ذخائر درآمدات کے صرف دو ہفتوں کے کور سے بڑھ کر تقریباً تین ماہ کے درآمدی کور تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے موجودہ زرمبادلہ کے ذخائر کی سطح ایک اہم سنگ میل ہے، تاہم حکومت اس پر مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ سکتی اور اصلاحات کا عمل جاری رکھنا ہوگا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ ٹیکس کے شعبے میں حکومت کا بنیادی مقصد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو جدید، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی ادارہ بنانا ہے، اس سلسلے میں افراد، طریقہ کار اور ٹیکنالوجی کی سطح پر تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ ملک کے ٹیکس نظام پر عوام اور کاروباری طبقے کا اعتماد اور اعتبار بحال کیا جا سکے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ 25 سے 26 کروڑ آبادی والے ملک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی بنیادی مالی ضروریات کے لیے بیرونی اداروں پر انحصار کرتا رہے،اگر کسی ملک کی آبادی چند ملین ہو تو صورتحال مختلف ہوسکتی ہے تاہم پاکستان جیسے بڑے ملک کو اپنے وسائل میں اضافہ کرنا ہوگا اور ٹیکس وصولی کے نظام کو موثر بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی موجودہ حکمت عملی کا محور اضافی ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس قوانین پر موثر عملدرآمد اور لیکیجز کا خاتمہ ہے، گزشتہ دو سال کے دوران ٹیکس آمدن میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ موجودہ بجٹ میں بھی اضافی ٹیکس عائد کرنے کے بجائے زیادہ توجہ انفورسمنٹ پر دی گئی ۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس نظام میں مضبوط لیکیجز کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کے وسائل ضائع ہو رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں بدعنوانی کے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکومت انوائسنگ، مصنوعی ذہانت پر مبنی نیٹ ورکس، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیکس چوری اور لیکیجز پر قابو پانے کے اقدامات کر رہی ہے۔
توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ 27 سرکاری اداروں کو نجکاری کمیشن کے حوالے کیا جا چکا ہے اور حکومت نجکاری کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ایئر لائن کی نجکاری کے عمل سے حکومت کو مثبت پیش رفت حاصل ہوئی اور پہلی مرتبہ دو بڑے پاکستانی کاروباری گروپس نے غیرملکی سرمایہ کاروں کے بغیر اجتماعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی بولیاں پیش کیں ،قومی ایئر لائن کے لیے کامیاب بولی تقریباً 600 ملین ڈالر رہی جبکہ ایک دوسری بولی بھی اس کے قریب رہی ۔انہوں نے بتایا کہ پاور سیکٹر کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں، متعدد ہوائی اڈوں، ایئر لائنز اور انشورنس کمپنیوں سمیت مختلف سرکاری ادارے نجکاری کے عمل میں شامل ہیں، اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے ہوائی اڈوں سے متعلق منصوبے بھی اسی عمل کا حصہ ہیں۔
سرکاری مالیات کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے پنشن اصلاحات بھی متعارف کرائی ہیں جبکہ تقریباً 40 سال کے وقفے کے بعد پاکستان دوبارہ یورو بانڈ مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے،یورو بانڈ مارکیٹ تک رسائی کا مقصد صرف بیرونی فنانسنگ حاصل کرنا نہیں بلکہ حکومت کی ذمہ داریوں اور قرضوں کو بہتر انداز میں منظم کرنا بھی ہے، حکومت قرضوں کی بعض ادائیگیوں کو قبل از وقت کرنے، میچورٹی میں توسیع اور رول اوور رسک کم کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔ ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ غیرملکی سرمایہ کاری کا معاملہ صرف بیرونی سرمایہ کاروں سے رابطے تک محدود نہیں بلکہ اس کی بنیاد پہلے ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر قائم ہوتی ہے، اگر مقامی سرمایہ کار ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کی سمت کے بارے میں مطمئن نہیں ہوں گے تو غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے بھی اعتماد پیدا کرنا مشکل ہوگا،کلی معیشت کااستحکام سرمایہ کاری کے لیے بنیادی ضرورت ہے اور حکومت اس مرحلے کو حاصل کر چکی ہے، اس کے بعد مقامی سرمایہ کاری میں اضافہ اور ملکی معیشت کی سمت پر اعتماد پیدا کرنا اہم ہے۔
بڑے مقامی کاروباری گروپس کی جانب سے حالیہ سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی سرمایہ کار معیشت میں ابھرتے ہوئے مواقع کو دیکھ رہے ہیں۔ ویان گروپ نے حال ہی میں پاکستان میں مشترکہ منصوبوں (جے ویز) کے ذریعے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور اس سرمایہ کاری کو بڑھا کر ڈیڑھ ارب ڈالر تک لے جانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے ،یہ تمام پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ اصلاحات، مقامی سرمایہ کاری اور غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے بنیاد مضبوط ہو رہی ہے، تاہم حکومت کو اس عمل کو مسلسل آگے بڑھانا ہوگا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹ نے مختلف حکومتوں کی تبدیلیوں اور ملک کو درپیش مشکل ترین معاشی حالات کے دوران خود کو کامیاب اور قابل اعتماد سکیم کے طور پر ثابت کیا ، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے آنے والی رقوم کو صرف ریئل سٹیٹ یا نیا پاکستان سرٹیفکیٹس تک محدود رکھنے کے بجائے صنعتی اور پیداواری شعبوں میں بھی منتقل کیا جائے ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کا دوسرا بڑا امتحان اس وقت ہوا جب 2022 میں ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر صرف دو ہفتوں کی درآمدی ضروریات کے برابر رہ گئے تھے ، اس وقت جن لوگوں نے اپنی رقوم واپس مانگیں انہیں ان کی رقوم واپس کر دی گئیں، اس مشکل وقت میں وزارت خزانہ اور نہ ہی سٹیٹ بینک سے مددطلب کی گئی بلکہ جب اکائونٹ ہولڈرز نے اپنی رقوم واپس مانگیں تو وہ رقوم انہیں واپس بھیج دی گئیں اس طرح سکیم نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت ثابت کی۔ روشن ڈیجیٹل اکائونٹ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور بالخصوص مارچ کے بعد اس میں مزید بہتری آئی ، یہ اضافہ صرف برطانیہ سے آنے والی رقوم تک محدود نہیں بلکہ دیگر مارکیٹوں سے بھی نمایاں آمد ہوئی ہے۔ موجودہ عالمی تنازعات اور صورتحال کے تناظر میں لوگ اپنی سرمایہ کاری اور اثاثوں کی سٹریٹجک ری الاٹمنٹ کر رہے ہیں جس کا کچھ حصہ پاکستان کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کے ذریعے ماہانہ تقریباً 200 ملین ڈالر سے زائد کی رقوم آتی تھیں، تاہم اب یہ مسلسل تقریباً 300 ملین ڈالر کے قریب رہی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور رقوم کی منتقلی کا رجحان برقرار ہے۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی رقوم کو صرف ریئل سٹیٹ یا نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے ملک کے صنعتی شعبے میں بھی لگائیں، حکومت روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کو مزید وسعت دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے جن میں کلائنٹ سیگمنٹس اور کرنسیوں کے سیٹ میں توسیع بھی شامل ہے، حکومت آئندہ بھی اس سکیم کو مزید آگے بڑھاتی رہے گی اور اس کے دائرہ کار میں توسیع جاری رکھی جائے گی۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان اپنے مالیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات میں اب امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کے بہائو پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہا ہے تاکہ ملک کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط بنایا جا سکے۔








