گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش بیرونی چیلنجز کا حل اتحاد میں ہے،علما اور مذہبی رہنماوں کو امن،رواداری اور مکالمے کے فروغ میں اپنا اہم کردار ادا کرنا ہوگا،اختلاف رائے کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے معاشرے میں برداشت اور مکالمے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضروت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ …
پاکستان کو درپیش بیرونی چیلنجز کا حل اتحاد میں ہے، گورنر خیبر پختونخوا کا لاہور چیمبر میں کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
لاہور۔17ستمبر (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش بیرونی چیلنجز کا حل اتحاد میں ہے،علما اور مذہبی رہنماوں کو امن،رواداری اور مکالمے کے فروغ میں اپنا اہم کردار ادا کرنا ہوگا،اختلاف رائے کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے معاشرے میں برداشت اور مکالمے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضروت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ بین المذاہب ہم آہنگی امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
کانفرنس میں کاروباری برادری، صنعتکاروں، علما، مذہبی رہنماوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی اور امن، بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور معاشی ترقی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔گورنر خیبرپختونخوا نے بین الاقوامی یوم امن کے موقع پر کانفرنس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے لاہور چیمبر کو مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امن کے حصول کے لیے لوگوں کی قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں، اس لیے امن کی اہمیت کو سمجھنا اور اسے برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ علما امن کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،معاشرے میں ایسی آوازوں کی ضرورت ہے جو اختلاف رائے کو دشمنی کی طرف بڑھنے سے روکیں۔ہمیں امن کانفرنس میں یہ عہد کرنا ہوگا کہ عدم برداشت کے بجائے مکالمے اور رواداری کو فروغ دیا جائے۔
گورنر پختو نخوا نے کہا کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے دستور ساز اسمبلی میں اقلیتوں کے حقوق اور آزادی کے حوالے سے واضح موقف پیش کیا تھا، پاکستان میں تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش بیرونی چیلنجز کا حل اتحاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہم متحد ہوں گے تو دنیا کے سامنے زیادہ مضبوط انداز میں کھڑے ہوں گے۔امن،استحکام اور باہمی اعتماد ہی ملک میں معاشی سرگرمیوں اور ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کر سکتے ہیں۔








