سعودی عرب نے امریکا کی جانب سے مملکت کو ایف ۔35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ سٹریٹجک شراکت داری اور دفاعی تعاون کا ایک اور اہم قدم قرار دیا ہے۔
سعودی عرب کا امریکا سے ایف-35 طیاروں کی ممکنہ فروخت کی تجویز کا خیرمقدم

مزید خبریں
واشنگٹن۔18ستمبر (اے پی پی):سعودی عرب نے امریکا کی جانب سے مملکت کو ایف ۔35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ سٹریٹجک شراکت داری اور دفاعی تعاون کا ایک اور اہم قدم قرار دیا ہے۔
اردو نیوز کے مطابق یہ بات امریکا میں سعودی سفارت خانے نے ایکس پر جاری بیان میں کہی۔ سعودی سفارت خانے نے کہا کہ ایف ۔35 طیاروں کی فروخت کی تجویز سعودی امریکا سٹریٹجک شراکت داری کی مضبوطی اور ہمارے دفاعی تعاون میں مسلسل پیشرفت کی عکاس ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ دہائیوں سے سعودی امریکا سیکورٹی تعاون نے علاقائی استحکام، ہماری اجتماعی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور مشترکہ سکیورٹی مفادات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ بیان امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے سعودی عرب کو 24.3 ارب ڈالر مالیت کی ممکنہ غیر ملکی فوجی فروخت (فارن ملٹری سیل) کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے جس میں 48 لاک ہیڈ مارٹن F-35 لائٹننگ II فائٹر جیٹس شامل ہیں۔ اس تجویز کردہ فروخت کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہو گی۔ اس پیکیج میں 49 پراٹ اینڈ وٹنی F135-PW-100 انجن (48 نصب شدہ اور ایک سپیئر) کے علاوہ محفوظ مواصلاتی اور نیویگیشن آلات، کرپٹوگرافک سسٹمز، الیکٹرانک وارفیئر سپورٹ، اسپیئر پارٹس، تربیتی سسٹمز، سمیلیٹرز، سافٹ ویئر اور لاجسٹک خدمات شامل ہیں۔
محکمہ خارجہ کے مطابق اس فروخت سے موجودہ اور مستقبل کے خطرات کا مقابلہ کرنے کی سعودی صلاحیت میں اضافہ ہو گا، ملکی دفاع مضبوط ہو گا اور امریکی، علاقائی اور نیٹو افواج کے ساتھ مشترکہ آپریشنل صلاحیتیں بہتر ہوں گی۔ اس سے شاہی سعودی فضائیہ کے آپریشنل فلکیٹ اور فضائی و زمینی دفاعی صلاحیتوں کو بھی تقویت ملے گی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے وضاحت کی کہ اس فروخت سے خطے کے فوجی توازن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی اس سے امریکی دفاعی تیاری متاثر ہو گی۔ اس معاہدے کے بنیادی ٹھیکیدار ٹیکساس کی لاک ہیڈ مارٹن ایروناٹکس اور کنیکٹی کٹ کی پراٹ اینڈ وٹنی ملٹری انڈسٹریز ہوں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس معاہدے میں فی الوقت کسی آفسیٹ معاہدے کی تجاویز شامل نہیں ہیں، ایسی کسی بھی بات چیت کا فیصلہ سعودی عرب اور ٹھیکیدار کمپنیوں کے درمیان ہو گا۔واضح رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کا یہ اعلان محض ممکنہ فروخت کی منظوری ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ طیاروں کی ترسیل ہو چکی ہے یا حتمی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ تجویز ابھی امریکی اسلحے کی فروخت کے طریقہ کار اور کانگریسی جائزے کے مراحل سے گزرے گی۔








