اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے موقع پر سیمینار کا انعقاد، مقررین کا تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے طے کردہ فریم ورک پر عمل درآمد کا مطالبہ
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے موقع پر سیمینار کا انعقاد، مقررین کا تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے طے کردہ فریم ورک پر عمل درآمد کا مطالبہ

مزید خبریں
جنیوا۔19ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ سیمینار کے مقررین نے تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے طے کردہ فریم ورک پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ہفتہ کو یہاں موصول ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق انٹرنیشنل ایکشن فار سسٹین ایبل پیس اینڈ ڈویلپمنٹ (آئی اے پی ایس ڈی ) کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ حقِ خودارادیت کو محض ایک قانونی اصول کے طور پر نہیں بلکہ تنازعات کی روک تھام، قیامِ امن اور مفاہمت کے لیے ایک عملی ذریعہ سمجھا جانا چاہیے۔مقررین نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے کرانے سے مسلسل انکار نے مسئلہ کشمیر کو کئی دہائیوں سے حل طلب رکھا ہوا ہے اور موجودہ صورتحال کو ایک ’’سلگتے ہوئے آتش فشاں‘‘ سے تشبیہ دی۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد میں ناکامی اور بھارت کی جانب سے انکار تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں جس کے نتیجے میں کشمیری عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔مقررین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں شدید عسکریت پسندی، شہری آزادیوں پر پابندیوں، زمینوں پر قبضے، آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششوں اور مذہبی امتیاز سمیت مختلف اقدامات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان عوامل نے خطے میں کشیدگی کو برقرار رکھا ہے اور جوہری صلاحیت رکھنے والے ہمسایہ ممالک بھارت اور پاکستان کے درمیان بار بار پیدا ہونے والی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔مقررین نے زور دیا کہ ’’تنازعے کا انتظام‘‘ سیاسی حل کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے جموں و کشمیر کے عوام کی سیاسی خواہشات کا تعین کرنے کے لیے آزاد، غیر جانب دار اور عالمی حمایت یافتہ عمل ضروری ہے۔ سیمینار میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ تنازعہ کے تاریخی پس منظر اور متاثرہ آبادی کی سیاسی امنگوں کو مدنظر رکھنا ہی دیرپا اور پُرامن حل کی جانب پیش رفت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔سیمینار سے ڈاکٹر سجاد خان، ڈائریکٹر کے پی آر آئی، بلیریم مصطفیٰ، ایڈوائزر جنیوا نیشنز انسٹی ٹیوٹ، ایڈووکیٹ پرویز شاہ، جنرل سیکریٹری آل پارٹیز حریت کانفرنس، اور زاہد حسین ہاشمی، صدر پیس فورم فرانس اور میڈم شمیم شال نے خطاب کیا۔








