خوردنی تیل کی ترسیل میں گٹھ جوڑ، آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن پر 6 کروڑ روپے جرمانہ، سی سی پی

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے خوردنی تیل، گھی اور چربی کی ترسیل کے کرائے اجتماعی طور پر طے کرنے اور ٹینکر مالکان میں کاروبار تقسیم کرنے پر آل پاکستان ایڈیبل آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن پر 6 کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا۔ کرایوں کے تعین اور کاروبار کی تقسیم پر الگ الگ 3 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا۔

اسلام آباد۔19ستمبر (اے پی پی):کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے خوردنی تیل، گھی اور چربی کی ترسیل کے کرائے اجتماعی طور پر طے کرنے اور ٹینکر مالکان میں کاروبار تقسیم کرنے پر آل پاکستان ایڈیبل آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن پر 6 کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا۔ کرایوں کے تعین اور کاروبار کی تقسیم پر الگ الگ 3 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا۔

سی سی پی کی جانب سے ہفتہ کو جاری پریس ریلیز کے مطابق سی سی پی کی مارکیٹ نگرانی کے دوران کراچی کی بندرگاہوں سے ملک بھر کیلئے ٹرانسپورٹ کرائے طے کرنے کے سرکلرز سامنے آئے، جس پر اگست 2024ء میں ازخود انکوائری شروع کی گئی اور فروری 2025ء میں ایسوسی ایشن کے دفتر کی تلاشی لی گئی۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ 2019ء سے 2025ء کے دوران ٹرانسپورٹ کرایوں میں 89 مرتبہ ردوبدل کیا گیا، جن میں 52 مرتبہ اضافہ اور 37 مرتبہ کمی شامل تھی۔ پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سرکلرز میں بھی کرایوں میں انہی شرحوں سے تبدیلی سامنے آئی، جبکہ آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے تسلیم کیا کہ ٹرانسپورٹ کرائے دونوں ایسوسی ایشنز کے درمیان معاہدے کے تحت طے کیے جاتے تھے۔

کمیشن نے یہ مؤقف مسترد کردیا کہ نرخوں کے سرکلرز محض مشاورتی تھے۔ سپریم کورٹ کے پی وی ایم اے کیس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا گیا کہ کاروباری حریفوں کو اپنے نرخ آزادانہ طور پر طے کرنے چاہئیں۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ٹینکر مالکان میں کاروبار قطار اور پرچی کے نظام کے ذریعے تقسیم کیا جاتا تھا۔ ستمبر 2023ء کے ایک سرکلر میں مخصوص شرائط کی خلاف ورزی پر ٹینکر اور اس کے مالک کیلئے الگ الگ 5 لاکھ روپے جرمانہ مقرر تھا۔کمیشن نے جرمانے کے تعین میں ایسوسی ایشن کی نمایاں مارکیٹ پوزیشن، تقریباً چھ سال تک جاری رہنے والے طرزِ عمل، اعلیٰ عہدیداروں کی شمولیت اور کارروائی شروع ہونے کے باوجود نرخوں کے تعین کا سلسلہ جاری رکھنے کے عمل کو بھی مدنظر رکھا۔

سی سی پی نے ایسوسی ایشن کو کرایوں کے اجتماعی تعین اور کاروبار کی تقسیم فوری ختم کرنے، موجودہ نرخوں کے سرکلرز واپس لینے اور ان اقدامات کو قومی اخبارات میں واضح کرنے کا حکم دیا ہے کہ ہر ٹینکر مالک اپنا کرایہ آزادانہ طے کرنے اور ایسوسی ایشن کی رکنیت سے قطع نظر بندرگاہوں سے کھیپ اٹھانے کیلئے آزاد ہے۔ واضح رہے کہ سی سی پی کی جانب سے عائد جرمانہ 60 روز میں جمع کرانا ہوگا۔ عدم تعمیل پر 50 ہزار روپے یومیہ اضافی جرمانہ اور کمپٹیشن ایکٹ کے تحت فوجداری کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔