کوہاٹ، مسجد پر دھماکے کے بعد دہشت گردوں کی دراندازی، پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک

کوہاٹ۔ 19 ستمبر (اے پی پی):پرانا پولیس لائنز کوہاٹ کی مسجد پر دھماکے کے بعد دہشت گردوں کی دراندازی پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے ہفتے کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پرانی پولیس لائنز میں کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور تمام آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔انسپکٹر جنرل …

کوہاٹ۔ 19 ستمبر (اے پی پی):پرانا پولیس لائنز کوہاٹ کی مسجد پر دھماکے کے بعد دہشت گردوں کی دراندازی پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے ہفتے کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پرانی پولیس لائنز میں کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور تمام آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس ذوالفقار حمید خود موقع پر موجود تھے۔ بیان میں مزید بتایا گیا کہ اس آپریشن کی قیادت ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہاٹ نے کی۔

اس موقع پر جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) کوہاٹ بھی موجود تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رات بھر جاری رہنے والے آپریشن کے بعد کامیابی حاصل کی۔ بیان کے مطابق آئی جی ذوالفقار حمید نے آپریشن میں حصہ لینے والے افسران کی بہادری کو سراہا اور ان کے لیے انعامات کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ پولیس، سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز نے انتہائی بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا، یہ بہادر اہلکار قوم کا فخر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا گیا ہے اور ہم ان کے مکمل خاتمے کو یقینی بنائیں گے۔ خودکش دھماکہ ہنگو-کوہاٹ روڈ پر دوپہر تقریباً 1:20 بجے ہوا جس کے بعد آٹھ کے قریب دہشت گردوں کے گروہ نے مسلح حملہ کر دیا۔ اس حملے نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا جبکہ نمازی اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہونے والی مسجد سے زخمیوں کو نکالنے کے لیے دوڑ پڑے۔

پولیس ترجمان کے مطابق ایک خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی مسجد کی بیرونی دیوار سے اس وقت ٹکرا دی جب نمازی جمعہ کی نماز ادا کر رہے تھے۔ دھماکے کے بعد مسلح شدت پسندوں نے پولیس لائنز میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ شدید دھماکے، جس سے مسجد شہید ہوگئی، کے بعد تقریباً آٹھ دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں گھسنے کی کوشش کی۔ مقابلے کے دوران تمام آٹھ دہشت گرد مارے گئے جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو محفوظ بنانے کےلیے کارروائیاں جاری رکھیں۔ اس حملے کا بنیادی ہدف پولیس لائنز میں تعینات پولیس اہلکار اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے افسران تھے شہید ہونے والے 22 افراد میں 15 پولیس اہلکار اور 7 شہری شامل ہیں۔ کل 103 زخمیوں کو لیاقت میموریل ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوہاٹ منتقل کیا گیا۔

زخمیوں میں 73 پولیس اہلکار اور 30 شہری شامل ہیں۔ کم از کم 34 زخمیوں کو علاج کے لیے داخل کیا گیا جبکہ 5 مریضوں کی سرجری کی گئی۔ ان میں سے 4 مریضوں کو بعد میں مزید علاج کے لیے پشاور کے ہسپتالوں میں ریفر کر دیا گیا۔ خیبر پختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ زخمیوں کو تمام ممکنہ طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس حکام حملے کے سہولت کاروں کی نشاندہی اور کھوج لگانے کےلیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پولیس لائنز کمپاؤنڈ کے اندر شدت پسندوں کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ آئی جی پی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑی ہے۔ بزدلانہ حملے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

دہشت گرد اور ان کے سہولت کار اپنے عبرتناک انجام کو پہنچیں گے۔ آئی جی پی نے تصدیق کی کہ کلیئرنس آپریشن مکمل ہو چکا ہے اور تمام آٹھوں حملہ آور مارے جا چکے ہیں۔ریسکیو 1122 خیبر پختونخوا کے ترجمان بلال احمد فیضی نے بتایا کہ ہنگامی امدادی کارروائیوں میں 14 ایمبولینسز، ریسکیو گاڑیاں، ایک ریکوری گاڑی اور 45 سے زائد ریسکیو اہلکاروں نے حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نور الامین نے ذاتی طور پر ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی۔ اس حملے نے کوہاٹ کے رہائشیوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ پرامن نمازیوں پر اس حملے کی سخت مذمت کی جا رہی ہے۔ علاقے کے ایک رہائشی محمد ریحان نے کہا کہ اس حملے میں بے گناہ لوگوں کے قتل عام سے مقامی آبادی میں شدید غم و الم پھیلا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہر لوگ عبادت کے لیے آتے تھے۔

پرامن نمازیوں پر اس قسم کا خودکش حملہ برداشت سے باہر ہے۔ ہم گہرے صدمے میں ہیں۔ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے۔ اس سانحے کے بعد مقامی لوگ تعزیت اور فاتحہ خوانی کےلیے مقامی مساجد اور متاثرین کے گھروں میں جمع ہوئے۔ حملے میں زخمی ہونے والوں کی مدد کے لیے خون کے عطیات کی مہمات بھی چلائی گئیں۔ ایک اور رہائشی رحمان اللہ نے کہا کہ ہم سب یہاں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کون ہیں، اس حملے نے ہم سب کو گہرا متاثر کیا ہے، جو اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ دہشت گردوں کا انسانیت اور اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی اور سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے ساتھ ساتھ واقعے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ شیخ زاید اسلامک سینٹر پشاور کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبد الغفور نے کوہاٹ مسجد میں نمازیوں پر حملے کو انتہائی قابل مذمت قرار دیا اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پرامن نمازیوں پر حملہ ایک بزدلانہ فعل ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔ اسلام ہر قسم کی دہشت گردی کی سخت ممانعت کرتا ہے۔مسلم لیگ (ن) نوشہرہ کے صدر نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت کی انسداد دہشت گردی کی پالیسی پر سوالات اٹھائے اور دہشت گردی کے خلاف حتمی و فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے لانگ مارچ کے بجائے سیکیورٹی اور گورننس پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ صوبائی حکومت نے متاثرین کے خاندانوں کو مکمل تعاون فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ زخمیوں کی مدد کےلیے ہنگامی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

جیسا کہ حکام نے جیو فینسنگ سمیت اپنی تحقیقات جاری رکھی ہوئی ہیں، کوہاٹ ہفتے کے روز بھی غم و الم میں ڈوبا رہا۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد شہری شہداء کا ماتم کرنے، زخمیوں کی عیادت اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔