وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے جہلم میں پٹرول پمپس کا دورہ کیا اور وزیراعظم محمد شہبازشریف کی عوام کو سستے پٹرول کی فراہمی کے جاری عمل کا مشاہدہ کیا جبکہ 6 گھنٹے سے زائد کھلی کچہری میں عوام کی شکایات سن کر موقع پر مسائل کے حل کے لیے احکامات جاری کیے۔
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کا جہلم میں پٹرول پمپس کا دورہ، کھلی کچہری میں عوامی مسائل کے حل کے لیے احکامات دیئے

مزید خبریں
اسلام آباد۔20ستمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے جہلم میں پٹرول پمپس کا دورہ کیا اور وزیراعظم محمد شہبازشریف کی عوام کو سستے پٹرول کی فراہمی کے جاری عمل کا مشاہدہ کیا جبکہ 6 گھنٹے سے زائد کھلی کچہری میں عوام کی شکایات سن کر موقع پر مسائل کے حل کے لیے احکامات جاری کیے۔وزارت خزانہ کی جانب سے اتوار کو یہاں جاری بیان کے مطابق وزیرمملکت بلال اظہر کیانی نے ضلعی انتظامیہ کے حکام کے ہمراہ پٹرول پمپس کے دورے کے دوران شہریوں سے بات چیت بھی کی۔
اس موقع پر مفت فون نمبر9771 پر پیغام بھیجنے اور اُس کے جواب کا بھی عملی مشاہدہ کیا۔وزیر مملکت نے شہریوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیول سبسڈی سکیم کے تحت موٹر سائیکل، چنگ چی رکشے اور 800 سی سی تک کی گاڑیاں استعمال کرنے والے عوام کو پٹرول فراہم کیا جا رہا ہے۔عوام سے بات چیت کرکے خوشی اور اطمینان حاصل ہوا ہے کہ ریلیف کی عوام کو فراہمی کا عمل بتدریج تیز ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی کشیدہ صورتحال کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں کے اثرات سے تمام ممالک متاثر ہو رہے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف اپنے عوام کو مہنگائی سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہے ہیں۔ دریں اثنا وزیر مملکت نے جہلم میں کھلی کچہری منعقد کی جس میں 6 گھنٹے سے زائد وقت تک عوام کے مسائل اور شکایات سنیں۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر محکموں کے اعلی حکام موجود تھے۔ شہریوں نے بجلی، پانی، سیوریج، محکمہ مال، زمینوں، بیت المال، روزگار اور ذاتی تنازعات سمیت دیگر مسائل سے وزیر مملکت کو آگاہ کیا جس پر بلال اظہر کیانی نے موقع پر احکامات جاری کئے۔
کھلی کچہری میں وزیراعظم فیول سبسڈی سکیم کا رجسٹریشن ڈیسک بھی قائم کیا گیا تھا۔وضح رہے کہ وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے14 جولائی سے جہلم، دینہ اور سوہاوہ میں عوام کے مسائل اور شکایات براہ راست سننے کے لئے کھلی کچہریوں کا آغاز کیا تھا۔ یہ جہلم میں تیسری کھلی کچہری ہے۔








