پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج ملوث ہیں۔ طاہر محمود اشرفی

وزیراعظم کی قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج ملوث ہیں جن کے پیچھے افغانستان اور ہندوستان ہیں، فتنہ الخوارج افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کر رہا ہے، جس کے ثبوت اور شواہد موجود ہیں، فلسطین اور سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح اور …

لاہور۔20ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم کی قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج ملوث ہیں جن کے پیچھے افغانستان اور ہندوستان ہیں، فتنہ الخوارج افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کر رہا ہے، جس کے ثبوت اور شواہد موجود ہیں، فلسطین اور سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح اور دوٹوک ہے، حرمین شریفین کا تحفظ و دفاع پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے اور پاکستانی عوام فلسطین اور سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو یہاں نجی ہوٹل میں ازبک میڈیا نمائندگان کے وفد سے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے دیگر ارکان کے ہمراہ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کمیٹی کی جانب سے ازبک وفد کا پاکستان آمد پر خیرمقدم بھی کیا گیا۔ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کر رہے ہیں، جس کے ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کوہاٹ کی مسجد میں خودکش دھماکہ کرنے والے دہشت گرد کا تعلق بھی افغانستان سے ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اور اسے پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث گروہوں کے خلاف موثر کارروائیاں کرنی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے، اس لیے دشمن پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی واضح اور دوٹوک ہے، پاکستانی عوام بھی فلسطین اور سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ارضِ مقدس اور حرمین شریفین کی سلامتی و دفاع کے لیے پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہے۔وزیراعظم کی قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر نے ازبک میڈیا وفد کو کمیٹی کے قیام اور اغراض و مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی 9 ستمبر 2025 کو قائم کی گئی تھی جو پاکستان کی مذہبی قیادت کو امن، برداشت، قومی یکجہتی اور استحکام کے لیے ایک موثر قوت کے طور پر بروئے کار لانے کے وسیع تر وژن کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں تمام مذاہب اور مسالک کی نمائندگی موجود ہے اور ارکان نے پیغامِ پاکستان پر دستخط کیے ہیں۔

کمیٹی کا مقصد اسلام کی حقیقی تعلیمات سے عوام کو روشناس کرانا اور بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔اس موقع پر قومی پیغامِ امن کمیٹی کے دیگر ارکان نے بھی ازبک میڈیا وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ازبکستان ہمارا برادر ملک ہے اور ازبک عوام پاکستان میں اپنے گھر جیسا ماحول محسوس کرتے ہیں۔ازبک میڈیا وفد نے میزبانی پر قومی پیغام امن کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔ملاقات کے موقع پر پیغامِ امن کمیٹی کے ارکان مولانا حافظ مقبول احمد، ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری، محمد توقیر عباس، ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان، ڈاکٹر علامہ محمد حسین، ڈاکٹر سید ضیا اللہ شاہ بخاری، ڈاکٹر شمس الرحمن، مولانا زبیر فہیم، مفتی مبشر، پنڈت بھگت لعل اور گیانی رنجیت سنگھ بھی موجود تھے۔