نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی امن و سلامتی اور اقوام متحدہ کو مرکز بنا کر ایک موثر اور جامع کثیرالجہتی نظام کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے،یہ دن ہم سب کے لیے ایک اہم یاد دہانی ہے کہ مکالمہ، سفارت کاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد و اصولوں پر عمل ہی پائیدار امن حاصل …
پاکستان بین الاقوامی امن و سلامتی اور اقوام متحدہ کو مرکز بنا کر موثر و جامع کثیرالجہتی نظام کےلئے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے، محمد اسحاق ڈار

مزید خبریں
اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی امن و سلامتی اور اقوام متحدہ کو مرکز بنا کر ایک موثر اور جامع کثیرالجہتی نظام کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے،یہ دن ہم سب کے لیے ایک اہم یاد دہانی ہے کہ مکالمہ، سفارت کاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد و اصولوں پر عمل ہی پائیدار امن حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار عالمی یوم امن کے موقع پراپنے پیغام میں کیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کو برقرار رکھتے ہوئے بین الاقوامی قانون کا احترام اور تنازعات کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے پرامن ذرائع سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں فوجی دستے فراہم کرنے والے ایک طویل عرصے سے سرگرم اور صف اول کے ملک کے طور پر بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کے لیے پاکستان کا پائیدار عزم مسلمہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تنازعات کی روک تھام اور ان کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے ایک جامع نقطہ نظر کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، تنازعات کے پرامن تصفیے کے حق میں ہماری سفارتی کاوشیں جن میں ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی بھی شامل ہے، اسی عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان کی جانب سے پیش کردہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد 2788 کا متفقہ طور پر منظور ہونا تنازعات کے پرامن تصفیے کے لیے میکانزم کو مضبوط بنانے کے کونسل کے عزم کی ایک اہم تصدیق ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ غیر حل شدہ تنازعات علاقائی اور بین الاقوامی عدم استحکام کو ہوا دیتے رہتے ہیں ، پاکستان یہ بھی سمجھتا ہے کہ جب اقوام کے تسلیم شدہ حق خود ارادیت سے انکار کیا جائے اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ کیا جائے تو پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا،یہ بات غیر ملکی قبضے کی صورتحال میں خاص طور پر واضح ہے جن میں بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر اور مقبوضہ فلسطینی علاقے شامل ہیں۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان پرامن اور خوشحال دنیا کے لیے مشترکہ عزم کو آگے بڑھانے میں ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے








