گلیشیئرز کی نگرانی ،موسمیاتی ڈیٹا، ارلی وارننگ سسٹم، سیٹلائٹ معلومات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق تمام قومی اداروں کے درمیان موثر رابطہ اور ڈیٹا شیئرنگ ناگزیر ہے، ڈاکٹر مصدق ملک

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ تاکہ موسمیاتی خطرات سے بروقت نمٹنے کے لیے گلیشیئرز کی نگرانی ،موسمیاتی ڈیٹا، ارلی وارننگ سسٹم، سیٹلائٹ معلومات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق تمام قومی اداروں کے درمیان موثر رابطہ اور ڈیٹا شیئرنگ ناگزیر ہے

اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ تاکہ موسمیاتی خطرات سے بروقت نمٹنے کے لیے گلیشیئرز کی نگرانی ،موسمیاتی ڈیٹا، ارلی وارننگ سسٹم، سیٹلائٹ معلومات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق تمام قومی اداروں کے درمیان موثر رابطہ اور ڈیٹا شیئرنگ ناگزیر ہے ۔وہ منگل کو سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کو ایک مربوط نظام کے تحت لانے کے لیے وزیراعظم نے وزیر دفاع کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک ایسے نظام پر کام کر رہی ہے جس کے تحت متعلقہ ادارے ایک دوسرے سے ڈیٹا طلب کرنے کے بجائے قانوناً اور خودکار طریقے سے معلومات شیئر کریں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ مختلف اداروں کے درمیان ڈیٹا کے تبادلے کے لیے ایک ورچوئل پلیٹ فارم بھی قائم کر دیا گیا ہے۔انہوں نےکہا کہ گلیشیئرز اور پانی کے نظام سے متعلق امور وزارت آبی وسائل کے دائرہ کار میں آتے ہیں جبکہ برف باری اور گلیشیئر پگھلنے کی نگرانی کے آلات واپڈا کے پاس ہیں۔ ارلی وارننگ سسٹم وزارت دفاع، سیٹلائٹ ڈیٹا سپارکو جبکہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق امور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے پاس ہیں۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ سول یا دفاعی نوعیت کا سیٹلائٹ ڈیٹا سپارکو کے پاس موجود ہےجبکہ قدرتی آفات سے متعلق ڈیٹا این ڈی ایم اے کے پاس ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تمام نظاموں کو مربوط کیا جائے تاکہ ملک کو بروقت اور جامع معلومات دستیاب ہوں۔انہوں نے بتایا کہ موسم سے متعلق سول معاملات کے لیے ایک نئی اتھارٹی کے قیام پر بھی کام جاری ہے جو وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے تھنک ٹینک کے طور پر بھی کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تجاویز جلد حتمی شکل دے کر وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گلیشیئر اور سیلاب دو مختلف مظاہر ہیں اور دونوں سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملی درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیم سیلاب کے پانی کو روک سکتے ہیں لیکن گلیشیئرز کو نہیں روکا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ گلیشیئر سےمتعلق تباہی محض پانی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ زمین اور پہاڑی ڈھانچے کی حرکت بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے،حکومت موسمیاتی اورگلیشیئر سے متعلق خطرات کی بہتر نگرانی اور پیش گوئی کے لیے ڈیجیٹل ٹوئننگ کے نظام پر بھی کام کر رہی ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے موسمیاتی ڈیٹا کے لیے ڈیجیٹل لیب کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اجلاس کو حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ملک میں 115 خطرناک گلیشیائی جھیلیں موجود ہیں جن میں سے 105 جھیلیں 5 اگست تک ان فریز ہو چکی تھیں۔ حکام نے بتایا کہ پاکستان میں گلیشیئر پگھلنے کی شرح سے متعلق مکمل ڈیٹا دستیاب نہیں کیونکہ اس نوعیت کا ڈیٹا حاصل کرنا ایک مہنگا عمل ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 1990ء کی دہائی میں قراقرم ہائی وے کے علاقے میں گلیشیئر ایریا لاس (گلیشیئرز کے رقبہ میں کمی کی شرح ) 3.2 فیصد تھا جو 2010ء سے 2020ء کے دوران بڑھ کر 4.9 فیصد ہو گیا جبکہ 1990ء سے 2020ء کے دوران قراقرم کے گلیشیئرز کے رقبہ میں تقریباً 12 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ خطے میں تقریباً 9 فیصد گلیشیئرز ختم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جہاں زمینی ذرائع سے ڈیٹا دستیاب نہیں ہوتا وہاں سیٹلائٹ کے ذریعے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں جبکہ بعض مقامات پر ڈیٹا کی فراہمی کے لیے ٹاورز بھی نصب کیے گئے ہیں۔اجلاس میں گرین پاکستان پروگرام اور ملک میں جنگلات کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ڈاکٹر مصدق ملک نے واضح کیا کہ گرین پاکستان پروگرام میں وزارت موسمیاتی تبدیلی وماحولیاتی رابطہ کاری کا کردار بنیادی طور پر سہولت کاری کا ہے۔سینیٹر شیری رحمان نے ملک میں جنگلات کی کٹائی اور مبینہ ٹمبر سمگلنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں جنگلات کی کٹائی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔انہوں نےخیبر پختونخوا میں مبینہ ٹمبر مافیا کی سرگرمیوں اور بڑے پیمانے پر ٹمبر کی غیر قانونی نقل و حمل کا معاملہ بھی اٹھایا اور گزشتہ 15 برس کے دوران ٹمبر سے متعلق سرگرمیوں کا آڈٹ کرانے کی تجویز دی۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ گرین پروگرامز پر ایک جانب وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب جنگلات کی کٹائی اور غیر قانونی ٹمبر کی نقل و حرکت کے الزامات سامنے آ رہے ہیں، اس لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان موثر رابطے کی ضرورت ہے۔حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ، پنجاب اور آزاد کشمیر میں فارسٹ کور میں اضافہ ہوا ہے تاہم مزید رقبہ دستیاب ہونے کی صورت میں جنگلات کے رقبے میں مزید اضافہ ممکن ہے۔اجلاس میں کتب پر پلاسٹک کور کے استعمال کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سینیٹر شیری رحمان نے اسلام آباد کے بک سٹورز میں پلاسٹک کور والی کتابوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ جن دکانداروں کی جانب سے بائیوڈی گریڈیبل پلاسٹک استعمال کرنے کے سرٹیفکیٹ پیش کیے جاتے ہیں، ان مصنوعات کی عملی طور پر کہاں بائیوڈی گریڈنگ ہو رہی ہے۔انہوں نےتجویز دی کہ سکولوں اور جامعات میں کتابوں کے لیے پلاسٹک کے بجائے برائون پیپر کے کور استعمال کیے جائیں۔اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز، جنگلات، ماحولیاتی تحفظ، ڈیٹا شیئرنگ اور ارلی وارننگ سسٹم سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔