اے آئی اور ڈیٹا پر مبنی طرز حکمرانی مستقبل میں پانی کی قلت سے نمٹنے کے موثر ذرائع ہیں، ماہرین

کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد میں پانی کے مسائل کے حل کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا

اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد میں پانی کے مسائل کے حل کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ اے این ایس او-کامسیٹس بین الاقوامی کانفرنس برائے مصنوعی ذہانت سے فعال آبی حل کی افتتاحی تقریب میں سائنس و ٹیکنالوجی کے معاون خصوصی رانا انور احمد نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر اور کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سفیر ڈاکٹر محمد نفیس ذکریا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور اعداد و شمار پر مبنی طرز حکمرانی مستقبل میں پانی کی قلت کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے موثر ذرائع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی دستیابی، تحفظ اور پائیدار انتظام کے لیے جدید سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی سے استفادہ ناگزیر ہے۔

کانفرنس میں پانی کے تحفظ، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کے باہمی تعلق سمیت اہم امور پر عالمی ماہرین اور محققین تبادلہ خیال کریں گے۔