علماء و مشائخ کا حرمین شریفین کے تحفظ، مسلم اتحاد کے لئے اجتماعی عزم کا اعادہ

علماء و مشائخ کا حرمین شریفین کے تحفظ، مسلم اتحاد کے لئے اجتماعی عزم کا اعادہ

اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):ملک کے ممتاز علماء و مشائخ نے حرمین شریفین کے تحفظ اور تقدس کے لئے اجتماعی اور غیر متزلزل عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کا تحفظ ایمان کا معاملہ اور پوری امت مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے ، اسے کسی فرقہ وارانہ مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔منگل کو پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین و قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، ڈاکٹر آصف میر، مولانا زاہد منصور، مولانا زبیر فہیم، مولانا ذوالفقار احمد، مولانا قاسم قاسمی، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا ابوبکر صابری، مولانا شہباز، مولانا محمد افضل شاہ، نائب خان سبحانی، مولانا حفیظ الرحمٰن، مولانا اورنگزیب، مولانا انیس الرحمن، مولانا صدیق صدیقی، مولانا بخت زمان، مولانا شہباز نعمانی، مفتی حفیظ الرحمٰن، مفتی شکیل اور حافظ سید عمار شاہ نے کہا کہ مقدس مقامات کا تقدس اور تحفظ فرقہ وارانہ اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہے۔

جامع مسجد بلال میں پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام ’’تعظیم حرمین شریفین سیمینار‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہوا جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بھی ایمان اور اسلام کے مقدس مقامات سے گہری وابستگی کی بنیاد پر قائم ہیں۔علماء و مشائخ نے کہا کہ سعودی عرب سے ان کی وابستگی معاشی مفادات یا تیل کی وجہ سے نہیں بلکہ رسول اکرم ﷺ، بیت اللہ اور اسلام کے مقدس مقامات سے محبت کی بنیاد پر ہے۔انہوں نے کہا کہ جب بھی حرمین شریفین کے تقدس کو خطرہ لاحق ہوا، مسلم امہ نے اتحاد کا مظاہرہ کیا، اور شیعہ، سنی، بریلوی اور دیگر مکاتب فکر بیت اللہ اور روضۂ رسول ﷺ کے تحفظ کے معاملے پر متحد ہیں۔علماء نے مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کسی بھی دھمکی یا کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی فرد یا گروہ بیت اللہ پر حملے کا سوچے گا، اسے پوری امت مسلمہ کے متحدہ ردعمل کا سامنا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بیت اللہ پر حملے کے لئے کسی قسم کا شرعی فتویٰ یا جواز ناقابل قبول ہے اور اس حوالے سے واضح شرعی موقف اختیار کرنا ضروری ہے۔ علماء نے واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں خانہ کعبہ کے تقدس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے بیت اللہ پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کی جانب سے بے بنیاد عذر پیش کئے جانے کے خلاف فتویٰ بھی جاری کیا اور کہا کہ بیت اللہ پر حملہ کرنا شریعت اور اسلام کی روح کے منافی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے ایسی مہم جوئی کی تو اسے پوری امت مسلمہ کی جانب سے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔مذہبی رہنماؤں نے حوثیوں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مکہ مکرمہ و سعودی عرب کے مقدس مقامات پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں بھی امت مسلمہ کے درمیان تنازعات کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی مزید کشیدگی اور محاذ آرائی کو روکنے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ یمن کے عوام بھی امت مسلمہ کا حصہ ہیں اور موجودہ صورتحال کو کسی وسیع تر فرقہ وارانہ تنازع میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہئے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بعض عناصر مسلمانوں میں تقسیم پیدا کرنے یا صورتحال کو اپنے مفادات، خصوصاً اسرائیل کے فائدے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔علماء نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب باہمی رابطے میں ہیں اور ضرورت پڑنے پر اپنے اپنے کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے قومی اتحاد اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ میں پاکستانی شیعہ قیادت کے مثبت کردار کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ پاکستان اور پوری امت مسلمہ کے لئے اجتماعی تشویش کا معاملہ ہے۔ پاکستان ابتدا ہی سے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور غزہ کے عوام کے لئے امداد بھی جاری رکھی جا رہی ہے۔مذہبی رہنماؤں نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے کبھی پاکستان میں فرقہ واریت کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور مذہبی منبر اور دیگر مذہبی پلیٹ فارمز سے ذمہ دارانہ گفتگو کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مذہبی شخصیات پر زور دیا کہ ایسے بیانات سے گریز کیا جائے جو بین المسالک ہم آہنگی کو نقصان پہنچائیں یا مسلمانوں میں غلط فہمیاں پیدا کریں۔انہوں نے خبردار کیا کہ فرقہ وارانہ بیانیوں کے ذریعے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش سے ہوشیار رہنا ہوگا اور امت مسلمہ کو اس امر پر نظر رکھنی چاہئے کہ مسلمان آپس میں تقسیم نہ ہوں جبکہ بیرونی قوتیں داخلی اختلافات سے فائدہ اٹھائیں۔علماء و مشائخ نے حکومت کی پالیسی کے تحت دینی مدارس کے بینک اکاؤنٹس کھولنے کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ باقاعدہ بینکاری نظام تک بہتر رسائی سے دینی اداروں کے معاملات میں شفافیت کو فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں دینی مدارس کو بینک اکاؤنٹس کھلوانے میں مشکلات کا سامنا تھا تاہم اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے اور بینک مدارس کے اکاؤنٹس کھولنے میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

علماء و مشائخ نے کہا کہ موجودہ نازک صورتحال میں حرمین شریفین کا تحفظ، مسلم اتحاد، امن، صبر و تحمل اور بین المسالک ہم آہنگی مرکزی ترجیحات ہونی چاہئیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ پوری امت مسلمہ کے مقدس مراکز ہیں اور ان کا تقدس مسلمانوں کو سیاسی، قومی اور فرقہ وارانہ اختلافات سے بالاتر ہو کر متحد کرتا ہے۔