سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کی موجودہ صورتحال، پروازوں میں غیر معمولی تاخیر
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس ، کراچی ایئرپورٹ پر پروازوں میں تاخیر، پی آئی اے کی نجکاری کے بعد نجی ایئرلائنز کے بیڑے میں نئے طیارے شامل کرنے کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کی موجودہ صورتحال، پروازوں میں غیر معمولی تاخیر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ایئرپورٹس کی اپ گریڈیشن اور فضائی رابطوں کی بحالی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے خصوصی مدعو کے طور پر اجلاس میں شرکت کی۔پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر طلحہ محمود کی زیرِ صدارت اجلاس میں سینیٹرز عمر فاروق، مسرور احمد، عطا الرحمٰن اور دوست خان ڈومکی سمیت سیکرٹری دفاع اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ سیکرٹری دفاع نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 4 فروری 2025 کو ایوی ایشن کا شعبہ وزارتِ دفاع کے ماتحت آنے کے بعد اصلاحاتی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کمیٹی کو کراچی ایئرپورٹ کا دورہ کرنے کی دعوت دی تاکہ کئے گئے اقدامات کا موقع پر جائزہ لیا جا سکے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کی بڑی وجہ طیاروں کی کمی اور تکنیکی مسائل ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ایئر سیال اور ایئر بلیو سمیت نجی ایئرلائنز اپنے فضائی بیڑے میں نئے جہاز شامل کر رہی ہیں اور دسمبر تک مزید طیارے شامل ہو جائیں گے جبکہ علاقائی روٹس پر چھوٹے طیارے چلانے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران بلوچستان کے ہوائی اڈوں پر نائٹ لینڈنگ اور فلائٹ آپریشنز میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ پشاور ایئرپورٹ پر نئے ٹرمینل اور تزئین و آرائش کی اشد ضرورت ہے۔ گلگت ایئرپورٹ کے رن وے اور لائٹنگ سسٹم کو جدید بنا دیا گیا ہے اور 1800 ایکڑ اراضی پر نئے گرین فیلڈ ایئرپورٹ کی فزیبلٹی آخری مراحل میں ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور سے سوات اور لاہور کے درمیان براہِ راست فضائی روابط قائم کرنے کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان ایئرپورٹ سے کمرشل پروازوں کے فوری آغاز کی سفارش کی تاکہ صوبے کے جنوبی اضلاع کے عوام کو سستی اور معیاری سفری سہولیات میسر آ سکیں۔ کمیٹی نے ملک بھر میں ہوائی اڈوں کی حالتِ زار اور مسافروں کے مسائل کے فوری حل پر زور دیا۔








