قومی آرکائیوز کے 60 لاکھ صفحات کی ڈیجیٹائزیشن جاری، عوام کی سہولت کے لئے موبائل ایپلی کیشن تیار کی جا رہی ہے، سینیٹ کمیٹی برائے ڈیلیگیٹڈ لیجسلیشن

قومی آرکائیوز کے 60 لاکھ صفحات کی ڈیجیٹائزیشن جاری، عوام کی سہولت کے لئے موبائل ایپلی کیشن تیار کی جا رہی ہے، سینیٹ کمیٹی برائے ڈیلیگیٹڈ لیجسلیشن

اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ڈیلیگیٹڈ لیجسلیشن نے قومی تاریخی و دستاویزی اثاثوں کے تحفظ، ڈیجیٹائزیشن اور رسائی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ قومی آرکائیوز کے تقریباً 60 لاکھ صفحات کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے جبکہ کراچی میں بیک اپ سرور بھی قائم کر دیا گیا ہے۔یہ بات سینیٹر نسیمہ احسان کی زیرِ صدارت نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کے دورے اور اجلاس کے دوران بتائی گئی۔ اجلاس میں سینیٹرز بشریٰ انجم بٹ، روبینہ قائم خانی، بلال سیف اور متعلقہ وزارتوں و محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی کو رولز میں مجوزہ ترامیم پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبائی اداروں سے مشاورت جاری ہے جس کے تحت قومی آرکائیوز میں صوبوں کی نمائندگی بھی شامل ہوگی جبکہ کم از کم جرمانہ 5 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کے استفسار پر کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو اپنے جوابات جمع کرانے کے لئے واضح ٹائم لائن مقرر کرنے پر زور دیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی معیار کا میوزیم قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور اس منصوبے کو پی ایس ڈی پی میں شامل کر لیا گیا ہے۔

ایچ ای سی کے تعاون سے آرکائیول سٹڈیز کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے اور وفاقی نظامت تعلیمات کے اشتراک سے آگاہی پروگرام بھی شروع کئے گئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ نایاب کتب اور دستاویزی مواد تک عوامی رسائی کے لئے ایک خصوصی موبائل ایپلیکیشن تیار کی جا رہی ہے۔ چیئرپرسن سینیٹر نسیمہ احسان نے ایپ کو فوری فعال کرنے کی ہدایت کی۔سینیٹر روبینہ قائم خانی نے عوامی آگاہی بڑھانے اور ادارے میں بھرتی کے لئے موزوں امیدواروں کی عدم دلچسپی پر بات کی جس پر حکام نے بتایا کہ نئے بھرتی قوانین تشکیل دیئے گئے ہیں۔ سینیٹر بلال سیف نے تاریخی دستاویزات کی تصدیق اور تحفظ کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا۔ کمیٹی نے قائد اعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح سے وابستہ نایاب و عالمی ورثہ قرار پانے والی دستاویزات، تاریخی گزٹس اور مائیکرو فلمز کا معائنہ بھی کیا۔ چیئرپرسن نے زور دیا کہ تاریخی ورثہ قومی امانت ہے جس کی حفاظت اور جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوان نسل تک منتقلی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔