قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس، نوادرات کی تصدیق کیلئے موجود حفاظتی انتظامات اور فنی صلاحیت کے حوالے سے جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس، نوادرات کی تصدیق کیلئے موجود حفاظتی انتظامات اور فنی صلاحیت کے حوالے سے جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت نے بیرون ملک سے 1252 قیمتی آثار قدیمہ کی وطن واپسی یقینی بنانے کے لیے وزارت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ آئندہ اجلاس میں نوادرات کی تصدیق کے لیے موجود حفاظتی انتظامات اور فنی صلاحیت کے حوالے سے جامع رپورٹ پیش کی جائے۔کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ بیرونی یا غیر ملکی معاونت سے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بحالی کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی ماہرین سے فنی جانچ، باقاعدہ اور دستاویزی نگرانی اور فنڈز کے شفاف اور جوابدہ استعمال کو یقینی بنایا جائے۔کمیٹی نے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کی جانب سے نیشنل لائبریری آف پاکستان (این ایل پی) میں سی ایس ایس کے امیدواروں کو تجربہ کار افسران اور ماہرین کے ذریعے رضاکارانہ تعلیمی رہنمائی فراہم کرنے کے اقدام کی بھی توثیق کر دی۔
قومی ورثہ و ثقافت سے متعلق قائمہ کمیٹی کا 9 واں اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہائوس میں کمیٹی کی چیئرپرسن سیدہ نوشین افتخار، ایم این اے کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مسلسل کوششوں اور موثر پیروی کے نتیجے میں وزارت گزشتہ ایک سال کے دوران امریکا، آسٹریلیا، اٹلی اور دیگر ممالک سے 1252 آثار قدیمہ وطن واپس لانے میں کامیاب رہی۔ کمیٹی نے آثار قدیمہ کی غیر قانونی کھدائی، سمگلنگ اور غیر مجاز بیرون ملک منتقلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ملک میں موجود حفاظتی و انسدادی طریقہ کار، آثار قدیمہ کی تصدیق کے لیے دستیاب فنی صلاحیت اور گزشتہ پانچ برس کے دوران وطن واپس لائے جانے والے نوادرات کی تفصیلات پر مشتمل جامع رپورٹ پیش کی جائے۔پاکستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بحالی کے لیے بین الاقوامی تعاون اور غیر ملکی معاونت کے حوالے سے وزارت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان 1954ء کے ہیگ کنونشن اور اس کے پروٹوکول، 1970ء کے یونیسکو کنونشن برائے ثقافتی املاک کی غیر قانونی درآمد، برآمد اور ملکیت کی منتقلی کی روک تھام اور ممانعت کے ذرائع اور 1972ء کے عالمی ورثہ کنونشن کا رکن ملک ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ یونیسکو کی معاونت کے تحت 2022ء میں موئن جو دڑو اور مکلی کے عالمی ثقافتی ورثے کے مقامات کے لیے مون سون سے متعلق قدرتی خطرات کے بعد ہنگامی اقدامات کی غرض سے 75،000 امریکی ڈالر فی مقام فراہم کیے گئے جبکہ 2025ء میں تخت بھائی اور ملحقہ شہر سہر بہلول کے تحفظ اور بحالی کے لیے 49،139 امریکی ڈالر فراہم کیے گئے۔کمیٹی نے زور دیا کہ بیرونی یا غیر ملکی معاونت سے کیے جانے والے تمام تحفظ و بحالی کے منصوبوں کی مجاز ماہرین سے فنی جانچ، منظم اور دستاویزی نگرانی اور فنڈز کے شفاف و جوابدہ استعمال کو یقینی بنایا جائے۔کمیٹی نے نیشنل لائبریری آف پاکستان میں سی ایس ایس کے امیدواروں کو تجربہ کار افسران اور ماہرین کے ذریعے لازمی مضامین میں رضاکارانہ تعلیمی رہنمائی فراہم کرنے کے وزارت کے اقدام کی بھی توثیق کی۔
ان مضامین میں انگریزی، مطالعہ پاکستان، عمومی معلومات، تاریخ پاکستان اور روزمرہ سائنس شامل ہیں۔کمیٹی نے بالخصوص انگریزی گرامر و کمپوزیشن، پریسی اور رپورٹ نویسی اور سرکاری تحریری مہارتوں پر خصوصی توجہ دینے کی تجویز کو سراہا تاہم کمیٹی نے واضح کیا کہ یہ اقدام نیشنل لائبریری کے دائرہ کار اور دستیاب وسائل تک محدود رہنا چاہیے اور اس کے نتیجے میں کسی قسم کی اضافی مالی یا انتظامی ذمہ داری عائد نہیں ہونی چاہیے۔کمیٹی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پروگرام میں شرکا کی حاضری اور شرکت کا ریکارڈ برقرار رکھنے کے لیے مناسب طریقہ کار وضع کیا جائے اور اس اقدام کی افادیت اور نتائج کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا رہے۔اجلاس میں کمیٹی کی اراکین رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور، سعیدہ جمشید، غزالہ انجم، شہناز سلیم ملک، مہتاب اکبر راشدی، نتاشہ دولتانہ، صبا تالپور، سنجے پروانی اور نعیمہ کشور خان کے علاوہ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی، ایم این اے جو کمیٹی کے عہدے کی بنیاد پر رکن ہیں، سیکریٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، وزارت کے اعلیٰ حکام اور اس کے ماتحت اداروں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔








