سرکاری ملازمین کو بالائی عمر کی حد میں پانچ سال رعایت کا قانونی حق حاصل ہے، وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ دو سال مسلسل باقاعدہ سرکاری ملازمت مکمل کرنے والے سول سرونٹس کو بالائی عمر کی حد میں پانچ سال کی خودکار رعایت حاصل ہے جبکہ ایک امیدوار ایک سے زائد زمروں میں عمر کی رعایت کا اہل ہو تو قانون کے تحت اس کے لئے زیادہ فائدہ مند رعایت اختیار کر سکتا ہے۔

اسلام آباد۔23ستمبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ دو سال مسلسل باقاعدہ سرکاری ملازمت مکمل کرنے والے سول سرونٹس کو بالائی عمر کی حد میں پانچ سال کی خودکار رعایت حاصل ہے جبکہ ایک امیدوار ایک سے زائد زمروں میں عمر کی رعایت کا اہل ہو تو قانون کے تحت اس کے لئے زیادہ فائدہ مند رعایت اختیار کر سکتا ہے۔وفاقی آئینی عدالت نے یہ فیصلہ ڈاکٹر فوزیہ کی جانب سے دائر وفاقی آئینی درخواست برائے اجازت اپیل میں سنایا جس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے 23 فروری 2026 کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

دو رکنی بنچ جسٹس روزی خان برِیچ اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل تھا۔ فیصلہ 23 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں کھلی عدالت میں سنایا گیا۔عدالت نے قرار دیا کہ بلوچستان حکومت کے 2012 کے قواعد کے قاعدہ 4(1)(ii) کے تحت دو سال مسلسل باقاعدہ سرکاری ملازمت مکمل کرنے والے امیدواروں کو بالائی عمر کی حد میں پانچ سال تک رعایت حاصل ہے جو 50 سال کی عمر تک دی جا سکتی ہے۔ یہ رعایت کسی علیحدہ حکم یا انتظامی منظوری سے مشروط نہیں بلکہ قانونی استحقاق ہے۔فیصلے کے مطابق درخواست گزار ڈاکٹر فوزیہ کو 10 جون 2011 کو بی پی ایس 17 میں میڈیکل آفیسر مقرر کیا گیا تھا۔

انہوں نے 2026 کے اشتہار کے تحت سینئر لیکچرر، اسسٹنٹ پروفیسر پلمونولوجی، سینئر رجسٹرار پلمونولوجی اور چیسٹ سپیشلسٹ کی آسامیوں کے لئے درخواستیں دیں تاہم آن لائن بھرتی کے نظام نے 43 سال کی مقررہ بالائی عمر کی حد سے زائد عمر ہونے کی بنیاد پر ان کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کی تاریخ پیدائش 2 نومبر 1982 ہے اور پانچ سال کی عمر میں رعایت کا فائدہ دینے سے وہ متعلقہ آسامیوں کے لئے مقررہ عمر کی حد کے اندر آتی ہیں، اس لئے انہیں زائد العمر قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت کے مطابق آن لائن پورٹل نے صرف 5 اگست 2025 کے نوٹیفکیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواستیں مسترد کیں اور سرکاری ملازم کے لئے قانون میں دستیاب عمر کی رعایت کو نظرانداز کیا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر کوئی امیدوار ایک سے زائد زمروں میں عمر کی رعایت کا اہل ہو تو قواعد کے تحت اسے اپنے لئے زیادہ فائدہ مند زمرے کا انتخاب کرنے کا حق حاصل ہے۔ 2012 کے قواعد کی متعلقہ شق کو 5 اگست 2025 کے نوٹیفکیشن نے ختم یا تبدیل نہیں کیا، اس لئے دونوں کو باہم ہم آہنگ انداز میں نافذ کیا جانا چاہئے۔

وفاقی آئینی عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ڈاکٹر فوزیہ کی درخواستیں قبول کرکے انہیں متعلقہ آسامیوں کے لئے امتحانات اور ٹیسٹ میں شرکت کا موقع دیا جائے۔