اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ماہرین اور ٹیکنالوجی صنعت کے رہنماؤں نے جدید ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مضبوط عالمی نظم و نسق اور بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون مزید مستحکم کرنے پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کا جدید ترین مصنوعی ذہانت کے مضبوط عالمی نظم و نسق اور تعاون پر زور

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔24ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ماہرین اور ٹیکنالوجی صنعت کے رہنماؤں نے جدید ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مضبوط عالمی نظم و نسق اور بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون مزید مستحکم کرنے پر زور دیا ہے۔
شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ ’’مصنوعی ذہانت اور بین الاقوامی سلامتی‘‘ کے عنوان سے اجلاس میں سلامتی کونسل کے ارکان، معروف اے آئی ماہرین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور اے آئی میں حالیہ پیش رفت اور اس کے عالمی نظم و نسق پر بریفنگ دی۔اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل برائے اے آئی کے شریک سربراہ اور معروف سائنسدان یوشوا بینجیو نے خبردار کیا کہ اے آئی ایجنٹس میں حالیہ پیش رفت نے سنگین سکیورٹی خدشات پیدا کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض جدید نظاموں میں ہدایات کے خلاف عمل کرنے اور نگرانی سے بچنے کی کوشش جیسے خطرناک رویے سامنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جدید ترین اے آئی سے وابستہ خطرات عالمی نوعیت کے ہیں اور انہیں کوئی ایک ملک تنہا محدود نہیں کرسکتا۔ انہوں نے تباہ کن غلط استعمال، طاقت کے ارتکاز اور اے آئی نظاموں پر کنٹرول ختم ہونے کے تین بڑے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون پر زور دیا۔بینجیو نے اے آئی سے متعلق واقعات کی مشترکہ تعریف، معلومات کے تبادلے کے لیے مشترکہ رپورٹنگ نظام اور ایسی تکنیکی حکمت عملیوں کے فروغ کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کی تجویز دی جن کے ذریعے اے آئی کو ابتدا ہی سے محفوظ بنایا جاسکے۔
اے آئی کمپنی کے سربراہ سیم آلٹمین نے کہا کہ جدید اے آئی کو بامعنی انسانی نگرانی میں رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کو ایسے نظام تیار نہیں کرنے چاہئیں جب تک وہ یہ مضبوط شواہد فراہم نہ کرسکیں کہ ان نظاموں کو انسانی مقاصد سے ہم آہنگ، مؤثر طور پر مانیٹر اور محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔انہوں نے اے آئی کی ترقی اور نظم و نسق کے لیے تین اصول پیش کیے جن میں اے آئی سے متعلق فیصلہ سازی میں انسان کو مرکزی حیثیت دینا، سائنسی و معاشی ترقی کے فوائد عوام کے لیے یقینی بنانا اور اے آئی کے ذریعے افراد کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں مدد دینا شامل ہے۔سیم آلٹمین نے جدید ترین اے آئی کے لیے مشترکہ عالمی معیارات تشکیل دینے، صلاحیتوں کی پیمائش اور خطرات کے جائزے کے طریقہ کار وضع کرنے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے اے آئی سے متعلق واقعات کی فوری اور درست رپورٹنگ و درجہ بندی کے نظام اور حکومتوں، اہم بنیادی ڈھانچے کے منتظمین اور تکنیکی ماہرین کے درمیان ابھرتے خطرات اور کمزوریوں کے تبادلے کے لیے محفوظ ذرائع قائم کرنے کی تجویز دی۔اے آئی کمپنی اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی نے اے آئی کے ممکنہ فوائد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی کی جانب سے حال ہی میں مالیکیولر مشین کی دریافت کا اعلان کیا گیا ہے، جو جین تھراپی سمیت دیگر شعبوں میں استعمال ہونے والے جین ایڈیٹنگ کے نئے طریقہ کار کی بنیاد بن سکتی ہے۔تاہم انہوں نے اے آئی کے دو بڑے خطرات کی نشاندہی بھی کی، جن میں غلط استعمال، بالخصوص حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے اے آئی کے ممکنہ استعمال، اور اے آئی کی صلاحیتوں میں ایسی تیز رفتار پیش رفت شامل ہے جس کے نتیجے میں ڈویلپرز کے لیے ان نظاموں پر کنٹرول برقرار رکھنا مشکل ہوجائے۔
انہوں نے اے آئی کے عالمی نظم و نسق کے لیے تین شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کی تجویز دی، جن میں ایسے محدود معاہدے شامل ہیں جن کی تمام ممالک حمایت کرسکیں، اے آئی کی صلاحیتوں کے جائزے اور وعدوں کی تصدیق کے نظام، جبکہ اے آئی ماڈلز کو کنٹرول سے باہر ہونے اور غلط استعمال کے خطرات کے حوالے سے جانچنے کے لیے مشترکہ عالمی معیارات اور عالمی سلامتی سے متعلق اہم واقعات کی اطلاع دینے کا نظام شامل ہے۔امریکی اے آئی کمپنی ’’ہیگنگ فیس‘‘ کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو کلیمنٹ ڈیلانگ نے کہا کہ جولائی میں ان کی کمپنی پر خودکار اے آئی ایجنٹ کے ذریعے ہونے والے سائبر حملے نے اے آئی سے متعلق واقعات کی نگرانی اور انکشاف کے لیے زیادہ شفافیت اور مضبوط عالمی معیارات کی ضرورت اجاگر کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمپنیاں تیزی سے طاقتور ہوتے اے آئی نظاموں کو مکمل طور پر بند ماحول میں نہیں رکھ سکتیں اور عالمی برادری کو سائبر سکیورٹی کے ابھرتے خطرات کو سمجھنے اور کم کرنے میں مدد دینے کے لیے مکمل ایجنٹ ٹریسز کے لازمی تبادلے جیسے اقدامات پر غور کیا جانا چاہیے۔کلیمنٹ ڈیلانگ نے خبردار کیا کہ سب سے بڑا خطرہ صرف طاقتور اے آئی نہیں بلکہ طاقتور اے آئی کی غیر مساوی تقسیم بھی ہے، جس میں حملہ آوروں اور دفاع کرنے والوں، چند کمپنیوں اور باقی دنیا، جبکہ چند ممالک اور دیگر ممالک کے درمیان نمایاں فرق پیدا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے اے آئی سے متعلق خوف پر مبنی بیانیوں سے گریز کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی کو انسانی شکل دینے یا سائنس فکشن سے متاثرہ تصورات عوام میں خوف بڑھا سکتے ہیں اور ٹیکنالوجی سے متعلق فیصلوں کی بنیاد ایسے تصورات نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے اے آئی کی صلاحیتوں، وسائل اور کنٹرول کو چند کمپنیوں یا ممالک تک محدود رکھنے کے بجائے اوپن سورس اے آئی ٹولز کے زیادہ استعمال کی بھی حمایت کی۔








