موسمیاتی اقدامات کے لیے عالمی تعاون اور مالی معاونت بڑھائی جائے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی سطح پر موسمیاتی اقدامات کے لیے مالی معاونت میں اضافے اور بین الاقوامی تعاون مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ ۔24ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی سطح پر موسمیاتی اقدامات کے لیے مالی معاونت میں اضافے اور بین الاقوامی تعاون مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔

شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں موسمیاتی اقدامات اور منصفانہ منتقلی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گوتریس نے کہا کہ دنیا موسمیاتی انصاف کا مطالبہ کر رہی ہے، جس میں ماحولیاتی اثرات میں کمی، موافقت اور مالی معاونت شامل ہیں، اس مطالبے کا عملی اقدامات کے ذریعے جواب دینا ہوگا۔انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ فوسل ایندھن سے مرحلہ وار منتقلی کے لیے واضح مدت پر مشتمل قابلِ اعتماد منصوبہ تیار کریں اور عالمی موسمیاتی اقدامات میں بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ عالمی اخراج میں 80 فیصد حصہ رکھنے والے جی 20 ممالک کو قیادت کرنی چاہیے، تاہم ترقی پذیر ممالک کو فیصلہ سازی کے عمل سے الگ نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں کے اصول پر عمل درآمد ضروری ہے۔انتونیوگوتریش نے فوسل ایندھن سے قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقلی کے لیے مضبوط مالی معاونت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے سالانہ کم از کم 300 ارب ڈالر متحرک کیے جائیں، جبکہ 2035 تک موسمیاتی مالی معاونت کو بڑھا کر سالانہ 1.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات، ترقی پذیر ممالک کو فیصلہ سازی میں زیادہ مؤثر کردار دینے اور کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں کو زیادہ بڑا، مؤثر اور فعال بنانے پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ نسل کے پاس فوسل ایندھن کے دور کے خاتمے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں اور موسمیاتی تباہی سے بچنے کا موقع بھی اسی نسل کے پاس ہے، اس لیے ان وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔