چینی صدر شی جن پنگ نےکہا ہے کہ چین اور امریکا کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے۔ شنہوا کے مطابق یہ بات انہوں نےسرکاری دورے پر امریکاپہنچنے کے بعد تحریری خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا دونوں عظیم ممالک ہیں اور دونوں ممالک کے عوام بھی عظیم عوام ہیں۔
چین اور امریکا کو حریف نہیں ، شراکت دار ہونا چاہیئے، صدر شی جن پنگ

مزید خبریں
واشنگٹن۔24ستمبر (اے پی پی):چینی صدر شی جن پنگ نےکہا ہے کہ چین اور امریکا کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے۔ شنہوا کے مطابق یہ بات انہوں نےسرکاری دورے پر امریکاپہنچنے کے بعد تحریری خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا دونوں عظیم ممالک ہیں اور دونوں ممالک کے عوام بھی عظیم عوام ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان طویل عرصے سے دوستانہ روابط قائم ہیں اور ان کے مفادات ایک دوسرے کے ساتھ گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی قوم کی عظیم نشاۃِ ثانیہ اور ’’امریکا کو دوبارہ عظیم بنانا ‘‘ ایک دوسرے کے ساتھ چل سکتے ہیں، ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں اور دنیا کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ چین اور امریکا دونوں بڑی طاقتوں کی حیثیت سے، نئے دور میں باہمی تعلقات کے لیے درست راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سال چین اور امریکا دونوں کی اپنی اپنی ترقی کے لیے ایک اہم سال ہے۔ انہوں نے کہا کہ مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے دورے کے دوران دونوں رہنمائوں نے حکمتِ عملی کے لحاظ سے مستحکم اور تعمیری چین-امریکا تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے مستقبل کے لیے رہنمائی فراہم کی ہے۔
چینی صدر نے کہا کہ چین اور امریکا کو ایک ہی سمت میں آگے بڑھنا چاہیے اور ایسے مستحکم تعلقات کو فروغ دینا چاہیے جن میں تعاون بنیادی حیثیت رکھتا ہو، مسابقت اعتدال میں ہو، اختلافات قابلِ انتظام ہوں اور امن کے وعدوں کو برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کی تاریخی منطق میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔








