وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا بین الاقوامی شراکت داروں سے ڈیجیٹلائزیشن، ایوی ایشن، ریفائنری کی جدیدکاری ، ریکو ڈک منصوبے بارے اہم امور پر تبادلہ خیال
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا بین الاقوامی شراکت داروں سے ڈیجیٹلائزیشن، ایوی ایشن، ریفائنری کی جدیدکاری ، ریکو ڈک منصوبے بارے اہم امور پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں سالانہ اجلاسِ کے موقع پرنیویارک میں ڈیجیٹلائزیشن، ایوی ایشن، ریفائنری کی جدیدکاری اور ریکو ڈک منصوبے کے حوالے سے بین الاقوامی شراکت داروں سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔وزارت خزانہ کے مطابق وزیرِ خزانہ نے دن بھر جاری رہنے والی ملاقاتوں کے سلسلے میں ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کے اعلیٰ سطح کے وزارتی مکالمے میں شرکت کی جہاں انہوں نے ڈیجیٹلائزیشن کو پاکستان کی معاشی استحکام سے پائیدار اقتصادی ترقی کی جانب منتقلی کا ایک اہم حصہ قرار دیا۔
انہوں نے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور کیش لیس ادائیگیوں کے فروغ پر روشنی ڈالتے ہوئے زور دیا کہ رابطہ کاری کے ساتھ ہنر میں بہتری اور نئی مہارتوں کے حصول پر بھی توجہ دینا ضروری ہے تاکہ فری لانسرز اور ڈیجیٹل شعبے سے وابستہ افراد اعلیٰ مہارت کی حامل خدمات کی جانب منتقل ہو سکیں۔ورچوئل اثاثہ جات کے وسیع پیمانے پر استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے قانون سازی، نگرانی اور لائسنسنگ کے حوالے سے پاکستان کی جاری کوششوں پر روشنی ڈالی اور کرپٹو کرنسی سے آگے ان کے عملی استعمالات پر زور دیا، جن میں کم لاگت اور آسان ترسیلاتِ زر کے ساتھ ساتھ سرکاری قرض اور رئیل اسٹیٹ کی ممکنہ ٹوکنائزیشن شامل ہے۔
انہوں نے ڈیجیٹل معیشت میں کامیاب تجربات کے تبادلے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ڈی سی او کے رکن ممالک کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔وزیرِ خزانہ نے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے چیئرمین جان جوانووچ سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے لیے طیاروں کی خریداری، ریفائنریز کی جدید کاری اور ریکو ڈک کان کنی کے منصوبے کے لیے مالی معاونت کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیرخزانہ نے بوئنگ کے طیاروں، بالخصوص 787 ڈریم لائنرز، میں پی آئی اے کی دلچسپی سے آگاہ کرتے ہوئے طیاروں اور انجنوں کی خریداری کے لیے مالی معاونت کے پیکیج میں تعاون پر زور دیا۔
انہوں نے گرائونڈ کیے گئے بوئنگ 777 طیاروں کو دوبارہ سروس میں لانے کے لیے سپیئر پارٹس کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی، فریقین نے وسیع تر تعاون کے فریم ورک پر کام جاری رکھنے اور اس دوران ترجیحی بنیادوں پر معاملات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا جن میں طیاروں کی پری ڈیلیوری ادائیگیوں کے لیے ممکنہ مالی معاونت بھی شامل ہے۔ ریفائنری اپ گریڈز کو بھی امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی معاونت کے ایک ممکنہ شعبے کے طور پر زیرِ غور لایا گیا۔
وزیرِ خزانہ نے ریکوڈک کے حوالہ سے پاکستان کے عزم کااعادہ کرتے ہوئے مستقبل کی برآمدات کے لیے منصوبے کی اہمیت اور تاخیر کی لاگت پرروشنی ڈالی ، انہوں نے منصوبے کے لیے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے مسلسل عزم کا خیرمقدم کیا۔ وزیرِ خزانہ کی ملاقاتوں میں پاکستان میں ڈیجیٹلائزیشن کو آگے بڑھانے، بین الاقوامی اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور ایوی ایشن، ریفائننگ اور کان کنی سمیت اہم شعبوں کے لیے مالی معاونت متحرک کرنے پر توجہ مرکوز رہی جبکہ تعاون اور سرمایہ کاری کے عملی مواقع کے حصول کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا۔








