آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں، انہیں کھلا رہنا چاہئے ، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں، انہیں کھلا رہنا چاہئے ، حالیہ کشیدگی میں خطرناک اضافہ دیکھا ہے تاہم میزائلوں، ڈرونز اور توپوں کی گھن گرج کے درمیان سفارتکاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہئے

اقوام متحدہ۔26ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں، انہیں کھلا رہنا چاہئے ، حالیہ کشیدگی میں خطرناک اضافہ دیکھا ہے تاہم میزائلوں، ڈرونز اور توپوں کی گھن گرج کے درمیان سفارتکاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہئے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں عمومی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے رواں سال فروری میں خلیج اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کا خطہ تنازعہ کی لپیٹ میں آ گیا جس سےقیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، معیشتوں کو نقصان پہنچا اور عالمی تجارت کی اہم بحری گزرگاہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز، شدید دباؤ کا شکار ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ اس نازک موقع پر پاکستان نے فوری طور پر عملی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ مشترکہ اور مسلسل کوششوں کے ذریعے پاکستان واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں ایک میز پر لانے میں کامیاب ہوا۔ اسلام آباد مذاکرات سے لے کر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت تک، تنازعہ کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے کئی تاریخی اقدامات کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دل کی گہرائیوں سے قدر کرتا ہوں جن کی انتھک کوششوں نے انتہائی مشکل حالات میں سفارتکاری کے لیے گنجائش پیدا کرنے میں مدد دی ، میں اس سلسلہ میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحا ق ڈار کی کوششوں کو بھی سراہتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہم نے ایک مرتبہ پھر کشیدگی میں خطرناک اضافہ دیکھا ہے تاہم میزائلوں، ڈرونز اور توپوں کی گھن گرج کے درمیان سفارتکاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہئے۔شہباز شریف نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں، انہیں کھلا رہنا چاہئے تاکہ اقوام کو ایک دوسرے سے جوڑیں، نہ کہ تصادم کے راستے بند کرنے والے مقامات بن جائیں،یہ سمندری راستے خوشحالی کا عہدبنیں، جنگ کے خطرات نہیں

مزید خبریں