دنیا میں دل کے امراض کے باعث سالانہ 2 کروڑ افراد جان کی بازی ہا ر جاتے ہیں، ڈاکٹر سکندر اقبال

ہیلتھ سپیشلسٹ اور معروف تجزیہ کار ڈاکٹر سکندر اقبال نےکہا ہے کہ امراض قلب کے باعث دنیا بھر میں سالانہ تقریباً 2 کروڑ سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر سال 29 ستمبر کو دل کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو دل کی صحت اور اس کی دیکھ بھال کی اہمیت سے آگاہی فراہم …

اسلام آباد۔27ستمبر (اے پی پی):ہیلتھ سپیشلسٹ اور معروف تجزیہ کار ڈاکٹر سکندر اقبال نےکہا ہے کہ امراض قلب کے باعث دنیا بھر میں سالانہ تقریباً 2 کروڑ سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر سال 29 ستمبر کو دل کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو دل کی صحت اور اس کی دیکھ بھال کی اہمیت سے آگاہی فراہم کی جاسکے، رواں سال اس دن کا موضوع ’’ دل کا استعمال، عمل کے لئے کریں‘‘ ہے ۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ دل کے مختلف امراض میں مبتلا ہے اور مردوں میں اس کا تناسب زیادہ ہے، 20 سے 30 فیصد بالغ مرد دل کی بیماریوں کا شکار ہیں جس کے بنیادی اسباب میں تمباکو نوشی، ذہنی تنائو اور غیر متوازن طرز زندگی شامل ہے، 18 سے 22 فیصد خواتین بھی عارضہ قلب میں مبتلا ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نو عمر اور جوانوں میں مائیوکارڈل انفارکشن اور دل کے دورے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، 40 سال سے کم عمر افراد میں فاسٹ فوڈ کا استعمال ، جسمانی تحرک کی کمی اور سگریٹ یا شیشہ نوشی کی وجہ سے شریانوں کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے ، اس کے علاوہ بلڈ پریشر، شوگر ، کولیسٹرول کی زیادتی ، وزن میں اضافہ ، جسمانی سرگرمیوں میں کمی اور خوراک جیسے عوامل بھی دل کی بیماریوں کا باعث بن رہے ہیں۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ انسانی جسم میں دل بنیادی اہمیت کا حامل ہے جو پورے جسم میں خون پہنچاتا ہے، اس لئے دل کی صحت کو صرف دل تک محدود سمجھنا بنیادی غلطی ہے، دل یا خون کی شریانوں کے متاثر ہونے سے پورا جسم متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں امراض قلب صحت عامہ کا بڑا چیلنج ہے اور 2022 کے دوران تقریبا ً 19.8 ملین افراد امراض قلب کے باعث زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے جو دنیا کی مجموعی اموات کا 32 فیصد ہیں جن میں سے تقریباً 85 فیصد کی موت ہارٹ اٹیک اور فالج سے ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ دل کی بیماری خاموش بیماری ہوتی ہے جس کی خاندانی خطرات ، بلند فشار خون، ذیابیطس، موٹاپا، تمباکو نوشی، نمک کا زیادہ استعمال، خوراک میں بے احتیاطی، نیند کی کمی ، ذہنی دبائو، جسمانی سرگرمیوں کا فقدان، فضائی آلودگی کے اثرات سمیت مختلف وجوہات شامل ہیں۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ امراض قلب کے بڑھتے مسائل سے نمٹنے کےلئے فرد ، خاندان، معاشرہ اور حکومت کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت عملی اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا۔

اس کا آغاز بنیادی صحت کی سطح پر بلڈ پریشر، خون میں شکر، کولیسٹرول ، وزن اور کمر کے گھیر کی باقاعدہ جانچ سے ہونا چاہئے تاکہ بروقت شناخت اور مسلسل فالو اپ ممکن ہو سکے۔ اسی طرح تمباکو نوشی ، نسوار ، شیشہ اور نکوٹین کی دیگر مصنوعات کے استعمال کی روک تھام ، خوراک میں نمک چینی اور غیر صحت بخش چکنائی میں کمی کے علاوہ صحت بخش غذائو ں کے فروغ، جسمانی سرگرمیوں کے لئے شہری ماحول اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کو قومی ترجیحات میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دل کی بیماریوں سے تحفظ کےلئے ضروری ادویات کو قابل رسائی اور قابل برداشت بنانے کے ساتھ ساتھ ہارٹ اٹیک اور فالج کےلئے موثر ایمرجنسی نظام اور قلبی بحالی کی سہولتوں کی فراہمی بھی ضروری ہے۔