پاکستان میں 131 اضلاع کے 60,456 ایکڑ رقبے پر 76 لاکھ زیتون کے درخت لگائے گئے

پاکستان میں تجارتی بنیادوں پر زیتون کی کاشت کو فروغ دینے کی کوششوں کے تحت 131 اضلاع میں 60,456 ایکڑ رقبے پر 7.637 ملین زیتون کے درخت لگائے گئے ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق زیتون کی کاشت بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد جموں و کشمیر، سندھ، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری اور گلگت بلتستان تک پھیل چکی ہے۔

اسلام آباد۔28ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں تجارتی بنیادوں پر زیتون کی کاشت کو فروغ دینے کی کوششوں کے تحت 131 اضلاع میں 60,456 ایکڑ رقبے پر 7.637 ملین زیتون کے درخت لگائے گئے ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق زیتون کی کاشت بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد جموں و کشمیر، سندھ، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری اور گلگت بلتستان تک پھیل چکی ہے۔بلوچستان قومی سطح پر زیتون کی کاشت میں سرفہرست ہے جہاں 31 اضلاع میں 24,620 ایکڑ رقبے پر 3,199,393 زیتون کے پودے لگائے گئے ہیں جو اعدادوشمار میں شامل تمام علاقوں میں سب سے بڑا کاشت شدہ رقبہ ہے۔

پنجاب دوسرے نمبر پر ہے جہاں 31 اضلاع میں 17,000 ایکڑ رقبے پر 2,235,962 زیتون کے پودے لگائے گئے ہیں۔ صوبے میں زیتون کی کاشت کو پی آئی ڈی ایس اے، پی ایس ڈی پی، اولیو ویلی اور نجی کاشت سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے فروغ دیا گیا ہے۔خیبرپختونخوا میں 32 اضلاع کے 14,690 ایکڑ رقبے پر 1,656,499 زیتون کے پودے لگائے گئے ہیں۔ صوبے میں زیتون کی کاشت میں پی آئی ڈی ایس اے، پی ایس ڈی پی، فائیو ملین اولیو اقدام اور نجی کاشت کا حصہ شامل ہے۔اعدادوشمار کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں 1,542 ایکڑ رقبے پر 205,929 پودے، سندھ میں 939 ایکڑ پر 129,384 پودے، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں 976 ایکڑ پر 117,958 پودے اور گلگت بلتستان میں 690 ایکڑ پر 92,296 پودے لگائے گئے ہیں۔2012 سے 2026 کے دوران ریکارڈ کی گئی مجموعی کاشت میں سب سے بڑا حصہ پی ایس ڈی پی کا رہا جس کے تحت 37,854 ایکڑ رقبے پر 5,029,010 پودے لگائے گئے۔

دیگر اقدامات کے تحت پی آئی ڈی ایس اے کے ذریعے 580,158 پودے، اولیو ویلی اقدام کے تحت 1,320,116، فائیو ملین اولیو پروگرام کے تحت 590,000، اولیوز ایکسپینشن کے تحت 80,637 جبکہ نجی طور پر 37,500 پودے لگائے گئے۔دستاویز میں پاکستان میں زیتون کی کاشت کے ممکنہ رقبے کا تخمینہ تقریباً 40 لاکھ ہیکٹر لگایا گیا ہے جبکہ ملک میں جنگلی زیتون کے لاکھوں پودوں کی موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔زیتون کی کاشت میں توسیع کے ساتھ ملک بھر میں زیتون کا تیل نکالنے کے 51 یونٹس بھی نصب کیے گئے ہیں جو اس بڑھتے ہوئے شعبے کو پراسیسنگ کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ان میں سے 23 یونٹس بلوچستان، 16 خیبرپختونخوا، نو پنجاب، دو اسلام آباد اور ایک آزاد جموں و کشمیر میں واقع ہے۔

دستاویز میں زیتون کے شعبے کے معاون بنیادی ڈھانچے کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں جن میں تین ویلیو ایڈیشن لیبارٹریاں، پھلوں کی پراسیسنگ کے چھ یونٹس، پانچ موسمیاتی سٹیشن، پانچ نرسری ٹنلز اور اسلام آباد، چکوال، ترناب اور کوئٹہ میں چار قومی ریفرنس لیبارٹریاں شامل ہیں۔اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا زیتون ترقیاتی پروگرام تجارتی بنیادوں پر زیتون کی کاشت کے فروغ کی وسیع تر کوششوں کے تحت اب صرف شجرکاری تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں پراسیسنگ، لیبارٹریوں، نرسریوں اور دیگر معاون سہولیات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔