پاکستان علماء کونسل کا مدینہ منورہ کانفرنس کی 31 سفارشات اور تجاویز کی مکمل حمایت کا اعلان
پاکستان علماء کونسل کا مدینہ منورہ کانفرنس کی 31 سفارشات اور تجاویز کی مکمل حمایت کا اعلان

مزید خبریں
مدینہ منورہ۔29ستمبر (اے پی پی):پاکستان علماء کونسل نے اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ میں منعقدہ مملکت سعودی عرب کی فکری انحرافات کے سدباب کی کوششوں کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس کے اختتام پر جاری کی گئی 31 سفارشات اور تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔پاکستان علماء کونسل نے کہا ہے کہ کانفرنس کی سفارشات فکری شعور کے فروغ، اعتدال و میانہ روی، متوازن فکر، علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ، تعلیمی نظام کی بہتری، ڈیجیٹل ماحول میں پیدا ہونے والے نئے چیلنجز سے نمٹنے اور علماء، تعلیمی اداروں، محققین، میڈیا اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتی ہیں۔

مدینہ منورہ میں دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین، انٹرنیشنل تنظیم حرمین شریفین کونسل کے سیکرٹری جنرل اور نیشنل پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مملکت سعودی عرب کی فکری انحرافات کے سدباب کی کوششوں کے حوالے سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کو سراہتے ہوئے اسے علمی مکالمے، تحقیق اور تجربات کے تبادلے کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا ہے۔
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ کانفرنس نے سعودی عرب اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے علماء، محققین اور ماہرین کو عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز کا جائزہ لینے اور ان کی روک تھام، آگاہی اور تعلیم کے مؤثر طریقۂ کار پر غور کرنے کا اہم موقع فراہم کیا۔اسلامی یونیورسٹی مدینہ کی جانب سے گورنر مدینہ منورہ شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس 27 اور 28 ستمبر 2026 کو منعقد ہوئی جس میں 9 مکالماتی نشستیں ہوئیں جبکہ مملکت کے اندر اور بیرونِ ملک سے علماء، محققین اور ماہرین کی جانب سے پیش کئے گئے 130 سے زائد تحقیقی مقالوں میں سے علمی جانچ پڑتال کے بعد 56 تحقیقی مقالات منظور کئے گئے۔
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ کانفرنس میں پیش کئے گئے مباحث اور تحقیقی مقالوں نے فکری انحرافات سے نمٹنے کے لئے سعودی عرب کے جامع طریقۂ کار کو اجاگر کیا، جس میں علمی، تعلیمی، ادارہ جاتی، ٹیکنالوجیکل اور انسدادی پہلوؤں کو یکجا کیا گیا ہے۔انہوں نے سائنسی تحقیق، ابھرتے ہوئے فکری چیلنجز کی بروقت نشاندہی، نوجوانوں میں آگاہی، ڈیجیٹل دنیا کے ذمہ دارانہ استعمال اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے عصرِ حاضر کے معلوماتی ماحول کے تجزیے پر خصوصی توجہ دینے کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ کانفرنس کی سفارشات تحقیق اور علمی معلومات کے تبادلے کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتی ہیں، جن میں فکری انحراف اور انتہاپسندی سے متعلق خصوصی تحقیقی مراکز کے قیام، قومی سطح پر تحقیقی ڈیٹا بیس کی تشکیل، مستند علمی جرائد و پلیٹ فارمز، قومی اشاریوں کی تیاری، تعلیمی اقدامات اور فکری آگاہی کے فروغ کے لیے ڈیجیٹل پروگرامز کی تجاویز شامل ہیں۔
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے تعلیمی نصاب کی ترقی، اساتذہ، علماء اور تعلیمی ماہرین کے لئے تربیتی پروگرامز، نوجوانوں کی معاونت اور تعلیمی، مذہبی، میڈیا، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں سے وابستہ اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے سے متعلق سفارشات کو بھی اہم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا میں مستند اور علمی دینی مواد کو فروغ دینے، دینی رہنمائی سے ذمہ دارانہ استفادہ یقینی بنانے اور پیچیدہ عصرِ حاضر کے مسائل سے نمٹنے کے لئے مختلف شعبوں کے علماء اور ماہرین کے درمیان تعاون کو خصوصی اہمیت دی جانی چاہئے۔کانفرنس میں باہمی تعاون پر دی جانے والی توجہ کا حوالہ دیتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ فکری چیلنجز سے نمٹنے کے مختلف تجربات کا عالمی سطح پر مطالعہ اور تبادلہ کیا جانا چاہئے تاہم اس عمل میں مختلف معاشروں کے سماجی، تعلیمی اور ثقافتی حالات کو بھی مدنظر رکھا جانا ضروری ہے۔
انہوں نے اسلامی یونیورسٹی مدینہ کو کانفرنس کی میزبانی اور فکری آگاہی، اعتدال، تحقیق، مکالمے اور تعلیمی اقدامات کے فروغ میں اس کے علمی و بین الاقوامی کردار پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس نے عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تجربات کے تبادلے اور سفارشات کی تیاری کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کانفرنس کے انعقاد کے لئے فراہم کی جانے والی سرپرستی اور معاونت پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے اسلامی یونیورسٹی کی انتظامیہ، علمی و انتظامی کمیٹیوں اور تمام شرکاء کی کاوشوں کو سراہا جنہوں نے کانفرنس کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس نے علمی تحقیق اور عملی اقدامات کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے اور فکری آگاہی، اعتدال، معاشرتی استحکام اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لئے مسلسل تعاون کی حوصلہ افزائی کا اہم موقع فراہم کیا ہے۔انہوں نے تعلیمی، مذہبی، میڈیا، سکیورٹی اور معاشرتی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے سے متعلق کانفرنس کی سفارشات کا بھی خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز سے نمٹنے کے لئے جامع اور انسدادی حکمتِ عملی تشکیل دینے میں ادارہ جاتی تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اپنے اختتامی کلمات میں بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی پر مملکت سعودی عرب اور اسلامی یونیورسٹی مدینہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے علمی و تحقیقی نتائج محققین، اداروں اور پالیسی سازوں کے لئے فکری آگاہی کے فروغ اور فکری انحرافات کی روک تھام کے مؤثر طریقۂ کار کی تشکیل میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔








