صدر آصف زرداری کا چین کے قومی دن پر صدر شی جن پنگ کے نام تہنیتی پیغام، پاک-چین دوستی اور تزویراتی شراکت داری مزید گہری کرنے کے عزم کا اعادہ

صدر آصف زرداری کا چین کے قومی دن پر صدر شی جن پنگ کے نام تہنیتی پیغام، پاک-چین دوستی اور تزویراتی شراکت داری مزید گہری کرنے کے عزم کا اعادہ

اسلام آباد۔:یکم اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے چین کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کی روایتی دوستی اور سدا بہار سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کی واضح علامت ہے۔صدارتی سیکرٹریٹ کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق چین کے قومی دن کے موقع پر چین کے صدر شی جن پنگ کے نام اپنے تہنیتی خط میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ سی پیک کا اعلیٰ معیار کی ترقی پر مبنی دوسرا مرحلہ پاکستان اور چین کے لیے مصنوعی ذہانت، قابل تجدید توانائی اور گرین مائننگ سمیت باہمی مفاد کے دیگر شعبوں میں نئے مواقع پیش کرتا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ گزشتہ 77 برس کے دوران چین کی ترقی نہ صرف چینی عوام بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے بھی نمایاں اقتصادی اور سماجی ثمرات کی حامل رہی ہے۔ انہوں نے کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالنے میں چین کی کامیابی، جامع ترقی اور نئی معیاری پیداواری قوتوں پر توجہ نیز عالمی امور میں چین کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور چین اس سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی’’آہنی دوستی‘‘ نے وقت کی ہر آزمائش پر پورا اترتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ یہ تعلقات تزویراتی باہمی اعتماد اور بنیادی مفادات سے متعلق امور پر ایک دوسرے کی مسلسل حمایت سے مزید مضبوط ہوئے ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اور صدر شی جن پنگ کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کی منفرد اور خصوصی دوستی کو آگے بڑھانے، عملی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی حامل قریب تر چین۔ پاکستان کمیونٹی کی تشکیل کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی اور تعاون کے رشتے مزید مضبوط ہوتے رہیں گے جس سے دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی، علاقائی امن و استحکام اور زیادہ پرامن، منصفانہ اور تعاون پر مبنی علاقائی و بین الاقوامی نظام کے فروغ میں مدد ملے گی۔

مزید خبریں