حکومتی توجہ نجی شعبے کو سازگار ماحول کی فراہم کرنے پر مرکوز،ٹیکس فائلرزکی تعداد57لاکھ سے تجاوزکرچکی ہے، سینیٹر محمداورنگزیب

اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نجی شعبے کو ضروری سازگار ماحول فراہم کرنے پر توجہ دے رہی ہے تاکہ کاروباری طبقہ ملک کی معاشی ترقی کی قیادت کرسکے، حکومت کا کام پالیسی اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانا ہے، ٹیکس نظام میں سادگی اور موثر عملدرآمد کے نتیجے میں ٹیکس ریٹرن فائلرز کی تعداد بڑھ کر 57 لاکھ …

اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نجی شعبے کو ضروری سازگار ماحول فراہم کرنے پر توجہ دے رہی ہے تاکہ کاروباری طبقہ ملک کی معاشی ترقی کی قیادت کرسکے، حکومت کا کام پالیسی اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانا ہے، ٹیکس نظام میں سادگی اور موثر عملدرآمد کے نتیجے میں ٹیکس ریٹرن فائلرز کی تعداد بڑھ کر 57 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔

انہوں نے یہ بات جمعرات کو پاکستان سٹاک ایکسچینج میں نیاناظم آباداپارٹمنٹ ریٹ کے حوالے سے گونگ بیل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔وزیرخزانہ نے کہاکہ حکومت شہریوں کورہایشی سہولیات کی فراہمی کےلئے کام کررہی ہے،اپناگھرسکیم کے تحت 60ارب روپے کااجراکردیاگیاہے جبکہ بینکوں نے 340ارط روپے کے قرضوں کی منظوری دی ہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں مقامی سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت حوصلہ افزا ہے، دو کنسورشیمز کی جانب سے مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی بولیوں میں حصہ لینا ملکی معیشت کے حجم کے لحاظ سے اہم پیش رفت ہے، بڑے کاروباری گروپس کا باہمی اشتراک اس امر کا عکاس ہے کہ نجی شعبہ بڑے منصوبوں کے لیے مل کر کام کرنے اور کاروباری حجم بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ترکیہ کے سرمایہ کاروں نے بھی پاکستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے، امریکا میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران بڑی کمپنیوں نے معدنیات و کان کنی، زراعت، آئی ٹی، تیل و گیس اور ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا کردار نجی شعبے کو مطلوبہ ایکو نظام فراہم کرنا ہے جس میں ایکسپورٹ کریڈٹ ایجنسیوں اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے ساتھ رابطہ، تجارتی مذاکرات اور پالیسی معاونت شامل ہے،نجی شعبے کو بااختیار بنا کر ہی ملک کو آگے لے جایا جاسکتا ہے

۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح کلی معیشت کے استحکام کو مستقل بنیاد پر برقرار رکھنا ہے تاکہ ملک بار بار آنے والے ”اتارچڑھائو“ کے چکر سے نکل سکے،ماضی میں معاشی بحران کے بعد بحالی میں کئی سال لگے اس لیے دوبارہ اسی صورتحال کی طرف واپسی برداشت نہیں کی جاسکتی۔انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کو پائیدار اور ذمہ دارانہ اقتصادی نمو میں تبدیل کرنا ہوگا، محض لیکویڈٹی بڑھا کر کھپت پر مبنی شرح نمو حاصل کرنا مشکل نہیں، تاہم اس سے دوبارہ ادائیگیوں کے توازن کا بحران پیدا ہوسکتا ہے اور ملک کو آخری سہارا دینے والے قرض دہندہ کی طرف رجوع کرنا پڑسکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات اب ڈیزائن کے مرحلے سے نکل کر عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں، ٹیکس، توانائی، سرکاری کاروباری اداروں، نجکاری اور عوامی مالیات سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات پر عملدرآمد جاری ہے ،ٹیکس نظام میں سادگی اور موثر عملدرآمد کے نتیجے میں ٹیکس ریٹرن فائلرز کی تعداد بڑھ کر 57 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جو گزشتہ سال تقریباً 39 لاکھ تھی ،2022 میں فائلرز کی تعداد تقریباً 18 سے 19 لاکھ تھی ،اس سے ٹیکس نیٹ میں نمایاں توسیع ظاہر ہوتی ہے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کے لیے مالی وسائل تک رسائی مزید بہتر بنانے کے لیے بینکاری شعبے کے تعاون سے کام جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ شراکت داروں کی جانب سے مشکل اوقات میں تعاون قابل قدر ہے، اب پاکستان کی سمت واضح ہے کہ امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کے بہائو کی طرف منتقل ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نئی معیشت کے تقاضوں کے مطابق پاکستان کو پوزیشن کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور نجی شعبے کو معاشی سرگرمیوں کا مرکزی محرک بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھے گی۔

مزید خبریں