غیر رسمی تعلیم کے معیار کو رسمی نظام کے ہم پلہ لانے کا فیصلہ: اسلام آباد کے 45 ماسٹر ٹرینرز کی تین روزہ تربیت مکمل، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک دائرہ کار وسیع

غیر رسمی تعلیم کے معیار کو رسمی نظام کے ہم پلہ لانے کا فیصلہ: اسلام آباد کے 45 ماسٹر ٹرینرز کی تین روزہ تربیت مکمل، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک دائرہ کار وسیع

اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں غیر رسمی بنیادی تعلیم کے معیار کو روایتی و رسمی تعلیمی نظام کے ہم پلہ لانے کے لیے اساتذہ کی منظم استعداد کار اور پیشہ ورانہ تربیت کا باقاعدہ فریم ورک فعال کر دیا ہے، جس کے تحت وفاقی دارالحکومت میں غیر رسمی تعلیم کے شعبے سے وابستہ 1400 اساتذہ میں سے منتخب 45 ماسٹر ٹرینرز کے تیسرے بیچ نے اپنی تین روزہ خصوصی تربیت کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی ہے۔ بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز کے تحت منعقدہ ’’ماسٹر ٹرینرز کے لئے تین روزہ پروفیشنل ڈویلپمنٹ ٹریننگ ‘‘ کی اختتامی تقریب جمعرات کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں منعقد ہوئی ۔

تقریب میں جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) اور دیگر بین الاقوامی و ملکی ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی سیکرٹری برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ندیم محبوب نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزارت نے ڈیڑھ سال قبل غیر رسمی تعلیم کے فروغ اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک ٹھوس و جامع روڈ میپ وضع کیا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس روڈ میپ کا بنیادی محور پسماندہ طبقات کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے والے غیر رسمی اساتذہ کی فنی و تدریسی تربیت اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنا ہے تاکہ دور دراز کمیونٹیز میں تعلیم کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ روایتی طور پر ماضی میں ان اساتذہ کو رسمی اساتذہ جیسی تربیت میسر نہیں تھی لیکن اب ہم پہلی مرتبہ منظم منصوبے کے تحت ٹیچرز گائیڈز مرتب کر کے موسم گرما کی تعطیلات میں اساتذہ کو تربیت دے چکے ہیں جبکہ اسلام آباد کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی تربیت کا یہ دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علم کی ترسیل کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی پروایکٹو اپروچ کلیدی ہے اور نوٹیفائی کی گئی کمیونٹی ایجوکیشن کمیٹیوں کے اجلاس تسلسل کے ساتھ منعقد ہونے چاہئیں۔

بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولزکے ڈائریکٹر جنرل حمید خان نیازی نے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب کی قائدانہ بصیرت اور غیر رسمی تعلیم کی بہتری کے لیے جاری اصلاحاتی ایجنڈے پر ان کا دلی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز دور افتادہ اور محروم طبقات کے بچوں کے لیے امید کی کرن ہیں اور موجودہ وزارت کی سرپرستی کی بدولت اساتذہ کی تربیت کا یہ خواب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔ حمید خان نیازی نے جائیکا اور دیگر تمام شراکتی اداروں کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جن کے اشتراک سے غیر رسمی اساتذہ کو جدید تدریسی مہارتوں سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ (این سی ایچ ڈی) علی اصغر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب کی واضح ہدایات کے تحت گزشتہ دو برسوں سے غیر رسمی تعلیم کے اساتذہ کی استعداد کار بڑھانے کا عمل بلا تعطل جاری ہے اور آج 45 ماسٹر ٹرینرز کا تیسرا بیچ تربیت مکمل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر رسمی اساتذہ غیر معمولی حالات، محدود وسائل اور کم سہولیات کے باوجود تدریسی خدمات جاری رکھ کر نمایاں نام پیدا کرتے ہیں۔

اس موقع پر جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کے نمائندے بلال نے غیر رسمی تعلیمی نظام کے ساتھ جائیکا کی مسلسل تکنیکی و اسٹریٹجک شراکت داری کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جائیکا اور دیگر بین الاقوامی پارٹنرز پاکستان میں غیر رسمی تعلیم کے اصلاحاتی فریم ورک، ٹیچرز ٹریننگ مینوئلز کی تدوین اور اساتذہ کے پیشہ ورانہ معیارات کو مضبوط بنانے میں حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

انہوں نے تربیت مکمل کرنے والے ماسٹر ٹرینرز کی لگن کو سراہتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی سطح پر تدریسی صلاحیتوں میں نکھار پاکستان کے روشن تعلیمی مستقبل کی ضمانت ہے۔تقریب کے اختتام پر وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب اور معزز مہمانوں نے کامیابی سے تین روزہ ماسٹر ٹرینرز تربیت مکمل کرنے والے اساتذہ میں اسناد تقسیم کیں۔

مزید خبریں