قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس، گندم کی کم از کم امدادی قیمت 5 ہزار روپے فی چالیس کلو گرام مقرر کرنے اور کسانوں کیلئے یکساں سبسڈی پالیسی کی سفارش

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس چیئرمین کمیٹی رکن قومی اسمبلی سید طارق حسین کی صدارت میں منعقد ہوا، کمیٹی نے گندم کی کم از کم امدادی قیمت 5 روپے فی 40 کلو گرام یا اس سے زائد مقرر کرنے کی سفارش کی ہے

اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس چیئرمین کمیٹی رکن قومی اسمبلی سید طارق حسین کی صدارت میں منعقد ہوا، کمیٹی نے گندم کی کم از کم امدادی قیمت 5 روپے فی 40 کلو گرام یا اس سے زائد مقرر کرنے کی سفارش کی ہے اور ملک بھر میں کسانوں کے لیے سبسڈی کا یکساں نظام وضع کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق جمعرات کو یہاں منعقدہ کمیٹی کے 31 ویں اجلاس کے دوران یہ سفارشات پیش کی گئیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ گندم کی بوائی کے سیزن کے آغاز سے قبل ’قومی گندم پالیسی 2026-2030‘ کو حتمی شکل دے کر اس کا اعلان کیا جانا چاہیے، کیونکہ بوائی کے بعد کیے جانے والے فیصلوں کی کسانوں کے لیے عملی افادیت بہت کم ہو گی۔کمیٹی نے زرعی شعبہ کو درپیش بڑے چیلنجز پر تشویش کا اظہار کیا جن میں پیداواری لاگت میں اضافہ، جدید مشینری کا ناکافی استعمال، ناقص معیار کے بیج، زرعی تحقیق کا فقدان، محدود سبسڈی، ذخیرہ کرنے کی ناکافی سہولیات، برآمدات کی کارکردگی اور یکساں و بروقت زرعی پالیسیوں کا نہ ہونا شامل ہیں۔

گندم کی پالیسی پر تبادلہ خیال کے دوران وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے کمیٹی کو گزشتہ سال کی عبوری گندم پالیسی، مجوزہ قومی گندم پالیسی 2026-2030 اور زیر غور مختلف سبسڈی ماڈلز کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک ہفتے کے اندر تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کی جائے گی اور بوائی کے سیزن سے قبل اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔کمیٹی نے صوبائی سطح پر مختلف طریقہ کار کا نوٹس لیتے ہوئے ملک بھر میں سبسڈی کے یکساں پروگرام کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پنجاب ’کسان کارڈ‘ کے ذریعے معاونت پر غور کر رہا ہے، سندھ 25 ایکڑ تک اراضی کے حامل کسانوں کو مدد فراہم کر رہا ہے جبکہ خیبر پختونخوا 5 ہزار روپے مالیت کی ’ان کائنڈ‘ (اشیاء کی صورت میں) سبسڈی فراہم کرے گا۔ کمیٹی نے ایک ایسے سادہ اور قابل رسائی نظام کا مطالبہ کیا جس سے ملک بھر کے کسان مستفید ہو سکیں۔ کمیٹی ارکان نے پاسکو کے بند ہونے کے بعد گندم کے ذخیرہ کرنے اور مارکیٹنگ کے انتظامات کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا اور نشاندہی کی کہ کسانوں کے پاس اپنی گندم کو ذخیرہ کرنے اور فروخت کرنے کے لیے متبادل ذرائع محدود ہوں گے۔

اراکین کمیٹی نے کہا کہ نجی سٹوریج کی سہولیات اکثر پیشگی ادائیگی کا مطالبہ کرتی ہیں جس سے کسانوں پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔ اراکین نے کھاد اور دیگر زرعی مداخل کی بلند قیمتوں کی نشاندہی بھی کی اور پیداواری لاگت کم کرنے اور زرعی مداخل کی بروقت دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔وفاقی وزیر نے اراکین پر زور دیا کہ وہ اپنی متعلقہ صوبائی حکومتوں سے رابطہ کریں اور قومی گندم پالیسی میں ان کی شرکت کی حوصلہ افزائی کریں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ زراعت قومی معیشت کا ایک اہم ستون ہے اور شعبہ کو کسانوں کی منافع بخش اور زرعی پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے مربوط اقدامات کا مطالبہ کیا۔کمیٹی نے چاول کی برآمدات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس سال چاول کی اچھی فصل متوقع ہے۔ کمیٹی نے برآمدی منڈیوں کو وسعت دینے اور پاکستانی زرعی مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے مزید کوششوں پر زور دیا۔ وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سعودی عرب اور ایران کی حکومتوں نے اپنے نجی شعبوں کی حوصلہ افزائی کی ہے تاکہ وہ پاکستان سے زرعی مصنوعات خریدیں جبکہ خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدوں سے برآمدات کے مزید مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

کمیٹی نے زرعی برآمدات کو فروغ دینے میں وزیر اعظم اور وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی کوششوں کو سراہا اور سندھ حکومت کے سبسڈی کے اقدامات بشمول زرعی شعبے کی سبسڈی کے لیے 25 ارب روپے مختص کرنے کے فیصلے کو بھی خوش آئند قرار دیا۔کمیٹی نے ڈی اے پی اور دیگر کھادوں کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ میں ملوث ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور وزارت پر زور دیا کہ زرعی پالیسیوں اور امدادی اقدامات پر بروقت فیصلے کئے جائیں۔کمیٹی نے بیج (ترمیمی) بل 2026 پر بھی غور کیا اور وفاقی وزیر کی رضامندی سے بل پر مزید غور و خوض آئندہ اجلاس تک ملتوی کر دیا گیا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ مجوزہ ترامیم کا مقصد 2024ء میں کمیٹی کی جانب سے منظور شدہ بل کو بہتر بنانا تھا اور ان میں وفاقی محکمہ تصدیق بیج کا اتھارٹی میں انضمام بھی شامل ہے۔کمیٹی نے بعض نئی دفعات پر وضاحت طلب کی اور ضروری اصلاحات کی سفارش بھی کی۔ کمیٹی نے نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (این ایس ڈی آر اے) کو 2024ء سے اب تک کے اقدامات اور پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دینے اور 2024ء میں بل کے نفاذ کے بعد مقررہ مدت کے اندر اتھارٹی کے کام کرنے کے لیے درکار قواعد و ضوابط پیش کرنے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے وزارت کو بروقت فیصلوں کو یقینی بنانے کا اعادہ کیا، کم از کم امدادی قیمت روپے روپے مقرر کرنے کی سفارش کی۔

کمیٹی نے این ایس ڈی آر اے کو بھی ہدایت کی کہ کمیٹی کو 2024ء سے اب تک کی پیشرفت کے بارے میں بریف کیا جائے اور مطلوبہ اصول و ضوابط پیش کئے جائیں۔کمیٹی کے اجلاس میں اراکین کمیٹی وسیم قادر، چوہدری افتخار نذیر، عبدالقادر خان، نذیر احمد بھوگیو، سید جاوید علی شاہ جیلانی، سید ابرار علی شاہ، ذوالفقار علی بہان، عثمان علی اور سنجے پروانی نے شرکت کی جبکہ نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ، وزارت قانون و انصاف اور نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے سینئر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔