عصرِ حاضر میں ہائبرڈ جنگ کے طریقہ کار ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل رابطوں میں تیز رفتار ترقی کے باعث زیادہ پیچیدہ، وسیع اور تیز ہو گئے ہیں، ماہرین

عصرِ حاضر میں ہائبرڈ جنگ کے طریقہ کار ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل رابطوں میں تیز رفتار ترقی کے باعث زیادہ پیچیدہ، وسیع اور تیز ہو گئے ہیں، پاکستان کے لئے یہ صورتحال قومی سلامتی، فیصلہ سازی، معاشرتی استحکام اور مجموعی تزویراتی ماحول کے حوالے سے نئے اور پیچیدہ چیلنجز کا باعث بن رہی ہے

اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):عصرِ حاضر میں ہائبرڈ جنگ کے طریقہ کار ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل رابطوں میں تیز رفتار ترقی کے باعث زیادہ پیچیدہ، وسیع اور تیز ہو گئے ہیں، پاکستان کے لئے یہ صورتحال قومی سلامتی، فیصلہ سازی، معاشرتی استحکام اور مجموعی تزویراتی ماحول کے حوالے سے نئے اور پیچیدہ چیلنجز کا باعث بن رہی ہے۔ہائبرڈ جنگ کے بدلتے ہوئے پہلوؤںبالخصوص تزویراتی استحکام، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز،معلوماتی کارروائیوں اور قومی تیاری واستعداد بڑھانے کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے آرمز اینڈ ڈس آرمامنٹ سینٹر (اے سی ڈی سی) کے زیر اہتمام ’’ہائبرڈ وارفیئر اینڈ پاکستانز نیشنل سکیورٹی: نیوی گیٹنگ دی سائبر، انفارمیشن اینڈ ڈپلومیٹک نیکسس‘‘ کے عنوان سے گول میز مذاکرہ منعقد ہوا۔مذاکرے میں ممتاز تزویراتی ماہرین اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی اور ہائبرڈ جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات اور ان سے نمٹنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔سینئر ایڈوائزر جے سی سی ایل ایئر کموڈور (ر) خالد بنوری نے جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام اور ڈیٹرنس پر ہائبرڈ جنگ کی جدید تکنیکوں کے اثرات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہائبرڈ جنگ نے فیصلہ سازی کے لئے دستیاب وقت کو محدود کر دیا ہے اور بحران سے نمٹنے اور سفارتکاری کی گنجائش بھی کم ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سائبر اور معلوماتی کارروائیاں اب تزویراتی استحکام کے ساتھ منسلک ہو سکتی ہیں جس سے جنوبی ایشیا میں بحرانوں کے انتظام کے لئے نئی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ایئر کموڈور (ر) خالد بنوری نے کشیدگی میں اضافے سے قبل معلومات کی تصدیق، رابطے کے مؤثر نظام اور بڑھتے ہوئے پیچیدہ سکیورٹی ماحول میں استحکام برقرار رکھنے کے لئے پیشگی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔پی کے سرٹ کی ڈائریکٹر لیبز عدیلہ وقار نے ہائبرڈ جنگ کے تناظر میں اہم بنیادی ڈھانچے، اس کے نظامِ کاراور کمزوریوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ ڈیٹا،تھرڈ پارٹی سروسز اور باہم منسلک ڈیجیٹل نظاموں پر بڑھتے ہوئے انحصار نے نئے خطرات پیدا کئے ہیں،ضروری نظاموں کی مسلسل فعالیت برقرار رکھنے کے لئے ڈیجیٹلائزیشن کو لچک اور بحران سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت ہے۔بحریہ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر سینٹر آف ایکسیلنس برائے مصنوعی ذہانت ڈاکٹر سمیرا کوثر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت حقیقی اور تبدیل شدہ دونوں طرح کے مواد کی تیاری اور پھیلاؤ کو تیز کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا مواد تیزی سے عوام اور میڈیا کی توجہ حاصل کر سکتا ہے، سفارتی ردعمل کو جنم دے سکتا ہے اور تزویراتی فیصلہ سازی کو متاثر کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر سمیرا کوثر نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی کارروائیاں فیصلہ سازی کے لئے دستیاب وقت کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہیں جس کے نتیجے میں معلومات کی تصدیق، جائزے اور ردعمل کے لئے محدود وقت باقی رہ جاتا ہے۔ایڈوائزر ایس پی ڈی ڈاکٹر ظہیر کاظمی نے کہا کہ ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کے لئے صرف سفارتی اور تزویراتی ابلاغ کی کوششیں کافی نہیں بلکہ انہیں مضبوط ادارہ جاتی لچک، قابلِ اعتماد صلاحیتوں اور مؤثر بحران انتظام کے نظام کی حمایت حاصل ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ جب کسی خلل کو قومی مفادات کے خلاف دباؤ یا فائدہ حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جائے تو وہ تزویراتی اہمیت اختیار کر لیتا ہے،اس تناظر میں بہتر رابطہ کاری،معلومات کی تصدیق کے مؤثر طریقہ کار اور باقاعدہ مشقوں اور پہلے سے قائم رابطہ ذرائع کے ذریعے تیاری ضروری ہے۔ایس وی آئی کے ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر ظفر علی اور سی آئی ایس ایس کے ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر بلال زبیر نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ کی تشکیل میں تزویراتی ابلاغ کے بدلتے کردار کو اجاگر کیا۔انہوں نے آئندہ قومی سلامتی پالیسی کے تناظر میں اس بحث کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہری بھی ہائبرڈ جنگ کے میدان کا حصہ بن چکے ہیں، اس لئے قومی سلامتی کے لئے عوام کو مرکز میں رکھتے ہوئے حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین نے کہا کہ ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کے لئے مضبوط اور لچکدار ادارے، مؤثر بیانیے اور عوامی آگاہی کے ساتھ ساتھ مضبوط معاشی،سیاسی اور سماجی بنیادیں بھی ضروری ہیں۔گول میز مذاکرے نے ماہرین کو ابھرتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال اور قومی سطح پر تیاری اور مزاحمتی صلاحیت مزید مضبوط بنانے کے لئےممکنہ طریقہ کار کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کیا۔

 

مزید خبریں