ہائر ایجوکیشن کمیشن کا ٹرانس نیشنل ایجوکیشن پروگراموں کے حوالے سے طلبہ کو انتباہ

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ٹرانس نیشنل ایجوکیشن (ٹی این ای) پروگراموں کے حوالے سے طلبہ کو خبردار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ داخلہ لینے یا فیس جمع کرانے سے قبل متعلقہ غیر ملکی پروگرام، پاکستانی شراکت دار ادارے

اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ٹرانس نیشنل ایجوکیشن (ٹی این ای) پروگراموں کے حوالے سے طلبہ کو خبردار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ داخلہ لینے یا فیس جمع کرانے سے قبل متعلقہ غیر ملکی پروگرام، پاکستانی شراکت دار ادارے، منظور شدہ ڈگری پروگرام اور تدریسی مقام کی ایچ ای سی سے باضابطہ منظوری کی تصدیق ضرور کریں۔ ایچ ای سی کی جانب سے جاری عوامی آگاہی پیغام کے مطابق ٹرانس نیشنل ایجوکیشن پالیسی کے تحت کوئی غیر ملکی جامعہ پاکستان میں ڈگری پروگرام صرف ایسے مقامی شراکت دار ادارے کے ذریعے پیش کرسکتی ہے جسے ایچ ای سی نے متعلقہ تعاون کے لیے باضابطہ طور پر منظور کیا ہو۔ ایچ ای سی نے واضح کیا کہ ٹرانس نیشنل پروگرام کی منظوری میں غیر ملکی ڈگری دینے والے ادارے، پاکستان میں پروگرام فراہم کرنے والے شراکت دار ادارے، منظور شدہ مخصوص ڈگری پروگرام اور پروگرام کے لیے مقررہ کیمپس یا مقام شامل ہوتے ہیں۔

کمیشن نے کہا کہ کسی معروف غیر ملکی جامعہ کی حیثیت سے اس کے ساتھ پاکستان میں ہر مقامی شراکت داری یا ہر تدریسی مقام خود بخود منظور شدہ تصور نہیں ہوگا۔ ایچ ای سی کے مطابق صرف وہی ٹرانس نیشنل ڈگری پروگرام تسلیم کیے جائیں گے جو منظور شدہ غیر ملکی و مقامی شراکت داری، مقررہ مقام اور منظور شدہ تعاون کے معاہدے کے تحت چلائے جارہے ہوں۔ غیر منظور شدہ شراکت دار، غیر منظور شدہ ڈگری پروگرام یا غیر مقررہ مقام پر چلنے والے پروگرام کو ایچ ای سی تسلیم یا مساوی قرار نہیں دے گا۔ ایچ ای سی نے ٹرانس نیشنل اور غیر ملکی اشتراک کے تحت منظور شدہ اداروں کی فہرست بھی جاری کی ہے جس میں اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی، پشاور، فیصل آباد، ملتان، حیدرآباد، گوجرانوالہ، ایبٹ آباد، گجرات اور دیگر شہروں میں قائم مختلف ادارے شامل ہیں۔ کمیشن نے طلبہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ داخلے یا ادائیگی سے قبل ایچ ای سی کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب منظور شدہ ٹرانس نیشنل اداروں اور پروگراموں کی فہرست سے تصدیق کریں۔

ایچ ای سی کی جانب سے ٹرانس نیشنل ایجوکیشن پالیسی اور منظور شدہ اداروں کی فہرست کے لیے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر متعلقہ صفحات بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

 

مزید خبریں