وفاقی وزیرِ خزانہ سے عالمی بینک کے وفد کی ملاقات، معاشی اصلاحاتی شراکت داری میں پیشرفت کا جائزہ ،ادارہ جاتی اصلاحات سمیت مختلف شعبوں میں عملدرآمد کی ترجیحات بارے تبادلہ خیال کیا

وفاقی وزیرِ خزانہ سے عالمی بینک کے وفد کی ملاقات، معاشی اصلاحاتی شراکت داری میں پیشرفت کا جائزہ ،ادارہ جاتی اصلاحات سمیت مختلف شعبوں میں عملدرآمد کی ترجیحات بارے تبادلہ خیال کیا

اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان میں عالمی بینک کے وفد نے ملاقات کی جس دوران جاری معاشی اصلاحاتی شراکت داری کے تحت پیش رفت کا جائزہ اور ترقی، روزگار، مالیاتی انتظام، ریونیو موبلائزیشن، کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی، تجارت و سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی اصلاحات سمیت مختلف شعبوں میں عملدرآمد کی ترجیحات بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد کی قیادت پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابزر کر رہی تھیں۔ملاقات میں پاکستان کے وسیع تر معاشی اصلاحا ت کے ایجنڈے کے لئے عالمی بینک کی معاونت کا جائزہ لیا گیا جس میں اصلاحاتی ترجیحات کو ہدفی اور قابلِ عمل اقدامات میں تبدیل کرنے اور متعلقہ وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور عملدرآمد کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

وزیرِ خزانہ نے اصلاحات کے ڈیزائن سے مؤثر عملدرآمد کی جانب منتقلی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ توجہ ایسے عملی اقدامات پر مرکوز ہونی چاہئے جو معاشی سرگرمی، سرمایہ کاری، روزگار اور مجموعی کاروباری ماحول میں قابلِ پیمائش بہتری لا سکیں۔ملاقات میں ورلڈ بینک کے مجوزہ گروتھ اینڈ جابز آپریشن بارے بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے، فنانس تک رسائی، شعبہ جاتی پیداواریت اور لیبر مارکیٹ کے نتائج میں بہتری کے لئے اقدامات شامل ہیں۔

عالمی بینک نے انویسٹمنٹ فریم ورک، کاروباری اور ریگولیٹری رکاوٹوں میں کمی، ایس ایم ایز کے لئے فنانس تک رسائی اور پاکستان کے ایگزم بینک کے لئے ایکسپورٹ فنانس پراڈکٹس کی تیاری سے متعلق مجوزہ اقدامات سے آگاہ کیا جن کا مقصد اضافی تجارتی بہاؤ کو فروغ دینا ہے۔وزیراعظم کے مالیات تک رسائی کے اقدام کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اصلاحات پر بھی گفتگو ہوئی جن میں ایک متحدہ انسالوینسی فریم ورک، ایس ایم ای فنانسنگ کو سپورٹ کرنے کے لئے فیکٹرنگ قانون سازی اور ضوابط، کمرشل فنانسنگ میں توسیع اور نجی شعبے کی زیادہ شرکت کے لئے اقدامات شامل ہیں۔

شعبہ جاتی اصلاحات کے حوالے سےعالمی بینک نے فارماسیوٹیکلز اور طبی مصنوعات اور زراعت کے شعبوں میں مجوزہ اقدامات سے آگاہ کیا جن میں بیجوں کی رجسٹریشن میں بہتری، منتخب اجناس کو ڈی ریگولیٹ کرنا اور بین الاقوامی خریداری اور منڈیوں میں شرکت کو آسان بنانے کے لئے بین الاقوامی ایکریڈیٹیشنز کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ملاقات میں سکلز ڈویلپمنٹ اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں قومی ووکیشنل کوالیفکیشنز فریم ورک میں بہتری، ہنرمندی کی بین الاقوامی سطح پر زیادہ پذیرائی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے معاونت یافتہ بیرونِ ملک روزگار کے باضابطہ راستوں کی ترقی شامل ہے۔

وزیرِ خزانہ اور عالمی بینک کے وفد نے نیشنل ٹیرف پالیسی پر عملدرآمد اور ٹیرف اصلاحات کے لئے جاری تجزیاتی معاونت کا جائزہ لیاجس میں آٹو موٹیو سیکٹر اور مستقبل کی ٹیرف اصلاحات سے متعلق کام بھی شامل ہے، اس ضمن میں مسابقت، پیداواریت، سرمایہ کاری، برآمدات اور پاکستان کے عالمی ویلیو چینز میں زیادہ مؤثر انضمام کی اہمیت پر زور دیا گیا۔مالیاتی اور ریونیو اصلاحات کے حوالے سے اجلاس میں ٹیکس پالیسی کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لئے عالمی بینک کی تکنیکی معاونت کا جائزہ لیا گیا جس میں میڈیم ٹرم ریونیو سٹرٹیجی اور ریونیو پالیسی ماڈلنگ کے لئے معاونت شامل ہے۔ بات چیت میں جنرل سیلز ٹیکس کو ہم آہنگ کرنے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس میں خدمات کے حوالے سے قواعد، تعریفوں اور درجہ بندیوں میں زیادہ ہم آہنگی، وفاقی و صوبائی رابطہ کاری میں بہتری اور ڈیٹا شیئرنگ کے مضبوط انتظامات شامل ہیں۔

زرعی آمدنی ٹیکس اصلاحات پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں ترمیم شدہ صوبائی قوانین و قواعد پر عملدرآمد اور رجسٹریشن، فائلنگ اور ادائیگی کے لئے ڈیجیٹل نظام شامل ہیں۔ ٹیکس تعمیل کو مضبوط بنانے اور وفاقی و صوبائی سطح پر ڈیٹا شیئرنگ کو بہتر بنانے کی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔اجلاس میں صوبائی پراپرٹی ٹیکس اصلاحات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جن میں پراپرٹی ویلیوایشن کے طریقہ کار کو بہتر اور ہم آہنگ بنانے، ڈیجیٹل نظام کو مضبوط کرنے اور بتدریج زیادہ مارکیٹ کی بنیاد پر ویلیوایشن فریم ورک کی جانب پیشرفت کے اقدامات شامل ہیں۔ملکی کیپٹل مارکیٹس کے حوالے سے اجلاس میں کیپیٹل مارکیٹس ڈویلپمنٹ کونسل کے ذریعے کیپیٹل مارکیٹ اصلاحات کے لیے روڈ میپ تیار کرنے میں عالمی بینک گروپ کی معاونت پر تبادلہ خیال کیا گیا جس کا مقصد ملکی کیپیٹل مارکیٹس کو مزید وسعت اور گہرائی دینا، فنانسنگ کے ذرائع کو وسیع کرنا اور سرمایہ کاری و سرمائے کی تشکیل کے لئے سازگار نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

اجلاس میں سرکاری شعبہ کی کارکردگی اور حکومت کے رائٹ سائزنگ ایجنڈے کے لئے عالمی بینک کی معاونت کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں ادارہ جاتی مؤثریت کو مضبوط بنانے اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کے لئے تکنیکی معاونت شامل ہے۔وزیرِ خزانہ نے قرضوں کے انتظام کی صلاحیت اور ملکی بانڈ مارکیٹس کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس حوالے سے مارکیٹ کے خطرات کے انتظام کے لئے مالیاتی آلات، ملکی بانڈ مارکیٹ کی ترقی اور انویسٹر ریلیشنز کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لئے جاری تکنیکی تعاون پر گفتگو ہوئی۔اجلاس میں پاکستان کے ساورن کریڈٹ پروفائل اور کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری کے راستے سے متعلق ورلڈ بینک کی تجزیاتی معاونت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت ساورن کریڈٹ ریٹنگ کے مقداری اور معیاری دونوں عوامل کو مضبوط بنانے کے لئے بھرپور کوشش جاری رکھے گی جن میں مالیاتی و قرضوں کا پائیدار انتظام، مضبوط بیرونی مالیاتی بفرز، پائیدار اقتصادی ترقی، ادارہ جاتی مؤثریت اور ڈھانچہ جات اصلاحات کا تسلسل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پوزیشن میں مزید بہتری کے لیے متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ روابط کو بھی مزید مضبوط کیا جائے گا۔ عالمی بینک کے وفد نے گورننس اور ادارہ جاتی مؤثریت کے حوالے سے جاری تجزیاتی کام سے بھی وزیرِ خزانہ کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر حکومت کی مؤثریت، ریگولیٹری معیار، شفافیت، احتساب اور مجموعی کاروباری ماحول کو مضبوط بنانے کےلئے عملی اور قابلِ پیمائش اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں جانب سے معاشی اصلاحاتی شراکت داری کے تحت مسلسل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا جس میں عملدرآمد، ادارہ جاتی مضبوطی، نجی شعبے کی قیادت میں ترقی، عوامی وسائل کے بہتر انتظام، سرمایہ کاری میں اضافے اور معاشی مواقع کو وسعت دینے پر مشترکہ توجہ مرکوز رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ورلڈ بینک کے وفد میں لاسے میلگارڈ آپریشنز منیجر، سائمن اینڈریوز ڈویژن ڈائریکٹر، آئی ایف سی ،اینا گوڈفریڈونا اوکوٹو ٹووم، اکانومسٹ،ارم توقیر، سینئر پبلک سیکٹر سپیشلسٹ سحر اعتزاز، کنٹری آفیسر آئی ایف سیشیخ علی محب، پریکٹس منیجر ٹوبیاس اختر حق، لیڈ اکانومسٹرفے خان، سینئر اکانومسٹ اور عمر ریاض آپریشنز اینالسٹ شامل تھے۔ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ اور وزارتِ خزانہ کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔

مزید خبریں