لیسکو سے متعلق شکایات وشواہد وزیراعظم کے سامنے رکھے جائیں گے،سپیکر پنجاب اسمبلی

لیسکو سے متعلق شکایات وشواہد وزیراعظم کے سامنے رکھے جائیں گے،سپیکر پنجاب اسمبلی

لاہور۔2اکتوبر (اے پی پی):سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے لیسکو کے بعض اہلکاروں کے خلاف مبینہ رشوت ستانی، غفلت، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، غلط بلنگ اور شہریوں کو ہراساں کرنے کی شکایات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیسکو سے متعلق شکایات و شواہد وزیراعظم محمد شہباز شریف کے سامنے رکھے جائیں گے، اپنے حلقے کے عوام کے مسائل حل کرنا ان کی ذمہ داری ہے ، کرپشن کی نشاندہی کو سیاسی مداخلت قرار نہیں دیا جا سکتا۔پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ لیسکو کے زیر انتظام علاقوں میں شہری طویل لوڈشیڈنگ اور بجلی سے متعلق مختلف مسائل کا سامنا کر رہے ہیں،بعض شہریوں کی جانب سے شکایات سامنے آئی ہیں کہ ایس ڈی او اور ایکسیئن سطح کے اہلکار مبینہ طور پر ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے رشوت طلب کرتے ہیں، جبکہ خراب ٹرانسفارمرز کی مرمت کے لیے بھی غریب شہریوں کو لاکھوں روپے جمع کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ بجلی چوری کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق ہونی چاہیے، تاہم ایک فرد کی مبینہ بجلی چوری کی سزا پورے گائوں یا علاقے کو نہیں دی جا سکتی، شہریوں کے گھروں میں کارروائی کے دوران چادر اور چار دیواری کے تقدس کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ سپیکر نے بعض علاقوں میں طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور لائن لاسز پورے کرنے کے لیے عام صارفین کو مشکلات میں ڈالنے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ لیسکو افسران کو دفاتر تک محدود رہنے کے بجائے فیلڈ میں جاکر زمینی صورتحال کا جائزہ لینا چاہیے۔

انہوں نے قصور کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی، ننگی تاروں اور شہریوں کو درپیش مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی شکایات کا فوری ازالہ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ سپیکر نے بتایا کہ وہ وفاقی وزیر توانائی سے بھی اس معاملے پر بات کر چکے ہیں جبکہ مکمل معاملہ وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا،جن اہلکاروں کے خلاف کرپشن کے الزامات ہیں، ان سے قانون کے مطابق جواب طلب کیا جائے گا۔ سپیکر نے واضح کیا کہ رشوت لے کر شہریوں کے مسائل حل نہ کرنا ناقابل قبول ہے ،ایسے معاملات پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔ محمد احمد خاں کا کہنا تھا کہ عوام کو اپنے جائز کاموں کے لیے سیاسی نمائندوں کے دفاتر کے چکر نہیں لگانے چاہئیں، متعلقہ افسران کو اپنی ذمہ داریاں خود پوری کرنا ہوں گی۔

سیاسی احتجاج کے حوالے سے سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ سیاسی اختلاف اور احتجاج آئینی حق ہے، تاہم تشدد، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا اور ریاستی اداروں پر حملہ سیاسی حق کے دائرے میں نہیں آتا۔ سپیکر نے 2014 کے احتجاج، بعد کے واقعات اور 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بار بار ایسے واقعات کا رونما ہونا سنجیدہ غور کا متقاضی ہے، اسلام آباد میں جتھہ بندی کے ذریعے ریاستی اداروں کو دبائو میں لانے کی کوشش کسی صورت قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہاکہ کسی شہری کے گھر کو جلانا یا سرکاری و حساس تنصیبات کو نقصان پہنچانا سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ جرم ہے،ملک میں سیاسی اختلاف کا اظہار آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونا اور قانون کی بالادستی سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔