وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے 24 سال کے وقفہ کے بعد تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مرتب کی گئی نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2025 کا باضابطہ اجراء کر دیا،پالیسی کے اجراء کی تقریب نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد میں عالمی یومِ آبادکاری کے موقع پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی آبادکاری کے تعاون سے منعقد ہوئی۔ وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض …
وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2025 کا باضابطہ اجراء کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے 24 سال کے وقفہ کے بعد تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مرتب کی گئی نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2025 کا باضابطہ اجراء کر دیا،پالیسی کے اجراء کی تقریب نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد میں عالمی یومِ آبادکاری کے موقع پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی آبادکاری کے تعاون سے منعقد ہوئی۔ وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیرزادہ نے تقریب کی صدارت کی جبکہ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک اعزازی مہمان تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان کو تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، شہری پھیلاؤ اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث رہائش کے شعبے میں نئے چیلنجز کا سامنا ہے، اس لئے مستقبل کی ہاؤسنگ پالیسی کو محض مکانات کی تعمیر تک محدود رکھنے کے بجائے پائیدار، ماحول دوست اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ شہری ترقی کا حصہ بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2025 بے گھر اور کم آمدنی والے طبقات کو رہائش کی فراہمی کے لئے جامع منصوبہ بندی کا فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ حکومت، نجی شعبے اور دیگر متعلقہ اداروں کو پالیسی کے مؤثر نفاذ کے لئے اپنے دستیاب وسائل اور مہارتیں بروئے کار لانا ہوں گی۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے پیش نظر توانائی کی بچت، وسائل کے مؤثر استعمال، ماحول دوست تعمیراتی طریقوں اور لچک دار شہری انفراسٹرکچر کو ہاؤسنگ منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مستقبل کی شہری ترقی ایسی ہو جو نہ صرف رہائش کی ضروریات پوری کرے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ اور پائیدار ماحول بھی یقینی بنائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2025 حکومت کی اس ترجیح سے ہم آہنگ ہے کہ عوام کو بہتر معیارِ زندگی، بنیادی سہولیات اور باعزت رہائش کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی کا مؤثر نفاذ وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نجی شعبے، مالیاتی اداروں، ماہرین اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے درمیان مضبوط رابطہ اور مشترکہ اقدام کا تقاضا کرتا ہے۔
اس موقع پروفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2025 وزیراعظم کے وژن کی عکاس ہے اور رہائش کے شعبے کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لئے ایک اہم پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ہاؤسنگ چیلنجز کا حل مشترکہ ایکشن پلان اور تمام متعلقہ اداروں کی مربوط کوششوں سے ہی ممکن ہے۔انہوں نے پالیسی کی تیاری میں کردار ادا کرنے والے ماہرین، محققین، سرکاری اداروں، نجی شعبے اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پالیسی پر مؤثر عمل درآمد اس کی کامیابی کے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔تقریب میں ماہرینِ تعلیم، محققین، ہاؤسنگ سیکٹر سے وابستہ نمائندگان اور مختلف متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔








