سرحد پر فوج کی موجودگی پر انگلی اٹھانے والے پہلے کے پی میں اپنی 13 سالہ ناکامیوں کا حساب دیں، خیبر پختونخوا کا مسئلہ سیاست نہیں دہشت گردی ہے، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف

سرحد پر فوج کی موجودگی پر انگلی اٹھانے والے پہلے کے پی میں اپنی 13 سالہ ناکامیوں کا حساب دیں، خیبر پختونخوا کا مسئلہ سیاست نہیں دہشت گردی ہے، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف

اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ریاست اور خیبر پختونخوا کا اصل مسئلہ سیاست نہیں بلکہ دہشت گردی ہے، مگر پی ٹی آئی کی سوچ ریاست کی انسداد دہشت گردی کی پالیسی سے مکمل متصادم رہی ہے، عمران خان کا ہمیشہ کالعدم ٹی ٹی پی کے لیے نرم گوشہ رہا، انہوں نے پورے سکیورٹی نظام کو دہشت گردوں سے غیر دانشمندانہ مذاکرات کی طرف دھکیلا جس کی بھاری قیمت آج کے پی اور پورا ملک چکا رہا ہے، پاک فوج اور ریاست کی پالیسی واضح ہے کہ دہشت گردوں کا مکمل قلع قمع کیا جائے گا، پی ٹی آئی آج بھی شدت پسندوں کے ساتھ انگیجمنٹ اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں وزیر دفاع نے تحریک انصاف کے بیانیے پر سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سوال کرتی ہے کہ اگر فوج سرحد پر موجود ہے تو دہشت گرد اندر کیسے آتے ہیں؟ اور موجودہ صورتحال کے ذمہ دار باجوہ اور فیض حمید ہیں۔ خواجہ آصف نے جوابی سوالات داغتے ہوئے پوچھا کہ اگر فوج سرحد پر کچھ نہیں کر رہی تو پھر فرنٹ لائن پر روزانہ خون کا نذرانہ دے کر دہشت گردوں کے خلاف کون لڑ رہا ہے؟ اسے’’ڈالر کی جنگ‘‘ قرار دینے والے بتائیں کہ گزشتہ برسوں میں امریکا نے پاکستان کو کتنے ارب ڈالر دیئے؟ اور جب دہشت گرد خود کوہاٹ، پشاور اور سکیورٹی چوکیوں پر ڈرون حملے کر رہے ہیں تو کیا فوج کو اپنے دفاع کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا بھی حق نہیں؟وزیر دفاع نے صوبے کی سکیورٹی صورتحال کے چونکا دینے والے اعداد و شمار سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ دو سالوں کے دوران 6,200 دہشت گردی کے واقعات میں 1,200 شہادتیں ہوئیں جبکہ افغان شہریوں کی جانب سے 37 خودکش حملے کیے گئے، رواں سال بھی اب تک 14 خودکش حملے ہو چکے ہیں جن میں اکثریت افغان باشندوں کی تھی۔

انہوں نے خیبر پختونخوا پولیس اور کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی زبوں حالی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ کے پی پولیس کی 1 لاکھ 25 ہزار کی نفری میں سے 13 ہزار اہلکار صرف وی آئی پی پروٹوکول پر تعینات ہیں جبکہ فورس میں 17 ہزار اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ ضم شدہ اضلاع میں سی ٹی ڈی عملاً غیر فعال ہے جس کی 3,300 کی مجموعی نفری میں صرف 25 اہلکار مستقل اور باقی کنٹریکٹ پر ہیں جبکہ پورے محکمے کے پاس محض 17 بلٹ پروف گاڑیاں ہیں۔ انہوں نے سنگین الزام عائد کیا کہ پولیس نے چوکیوں کی تعمیرِ نو اور مضبوطی کے لیے 42 ارب روپے مانگے تھے مگر صوبائی حکومت نے صرف 1.2 ارب روپے جاری کیے جبکہ کاغذات میں پورے 42 ارب روپے خرچ دکھا کر ہڑپ کر لیے گئے اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اہلکار روزانہ جانیں گنوا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 3 ہزار سے زائد دہشت گردی کے مقدمات زیر التواء ہیں لیکن کسی مجرم کو سزا نہیں مل سکی۔خواجہ آصف نے فنڈز نہ ملنے کے پی ٹی آئی کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے 2010ء سے 2025ء تک وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا کو فراہم کردہ 8.5 کھرب (8,504 ارب) روپے کی مفصل مالیاتی دستاویزات جاری کر دیں۔

ان اعداد و شمار کے مطابق 7ویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت 5,867 ارب روپے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں قابل تقسیم پول کے 1 فیصد سے 705 ارب روپے، ضم شدہ اضلاع کے لیے 704 ارب روپے، براہ راست منتقلیوں (رائلٹیز و جی ڈی ایس) کی مد میں 482.78 ارب روپے، بی آئی ایس پی اخراجات کے 481.43 ارب روپے، بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کے لیے 117.16 ارب روپے اور این ایف سی کی تازہ ترین قسط میں 46.44 ارب روپے صوبے کو دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کی کوئی کمی نہیں بلکہ کرپشن اور کمزور طرزِ حکمرانی وسائل کے اثرات کو ضائع کر رہی ہے۔وزیر دفاع نے پی ٹی آئی قیادت سے سوالات پوچھے کہ کیا انہوں نے کبھی اگلے مورچوں اور فوجی چوکیوں کے دورے کیے؟ کیا کبھی شہداء کے خاندانوں سے ملاقات کی؟ ضم شدہ اضلاع میں کتنے تھانے اور عدالتیں فعال کیں اور دہشت گردی پر کتنے اپیکس کمیٹی اجلاس بلائے؟ انہوں نے یاد دلایا کہ ریاست کی بنیادی حکمت عملی ’’ہولڈ، بلڈ اینڈ ٹرانسفر‘‘ ہے، فوج نے جانیں دے کر علاقے کلیئر اور محفوظ بنا دیئے، لیکن پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور سول انتظامیہ ان علاقوں کا انتظام سنبھالنے اور اداروں کو کھڑا کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔