نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسدادِ پولیو (این ای او سی) نے پاکستان میں 2026 کے پولیو کے چھٹے کیس کی تصدیق کر دی ہے۔ پولیو کا نیا کیس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے رپورٹ ہوا ہے۔متاثرہ بچہ تحصیل جمرود کی یونین کونسل غنڈی-اے کا سات سالہ لڑکا ہے۔جاری تفصیلات کے مطابق پاکستان پولیو کے خاتمے کے اقدام کی جانب سے کیس کی جامع تحقیقات شروع کر دی گئی …
این ای او سی نے پاکستان میں 2026 کے پولیو کے چھٹے کیس کی تصدیق کر دی
اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسدادِ پولیو (این ای او سی) نے پاکستان میں 2026 کے پولیو کے چھٹے کیس کی تصدیق کر دی ہے۔ پولیو کا نیا کیس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے رپورٹ ہوا ہے۔متاثرہ بچہ تحصیل جمرود کی یونین کونسل غنڈی-اے کا سات سالہ لڑکا ہے۔جاری تفصیلات کے مطابق پاکستان پولیو کے خاتمے کے اقدام کی جانب سے کیس کی جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ کیس کے ردعمل میں بچوں تک رسائی اور انہیں پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے اضافی اقدامات بھی زیرِ غور ہیں، جن میں بڑی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے لیے زبانی اور انجیکٹ ایبل ویکسین پلانے اور لگانے کی خصوصی مہم کے ساتھ ساتھ معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کو مزید موثر بنانا شامل ہے۔
رواں سال رپورٹ ہونے والے پولیو کے چھ کیسز میں سے پانچ کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جبکہ ان میں سے چار کیسز صرف جنوبی خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوئے ہیں۔پولیو ویکسین کی بدولت پاکستان میں پولیو کے کیسز میں 99.8 فیصد کمی آئی ہے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں ملک میں پولیو کے ایک اندازے کے مطابق 20 ہزار کیسز رپورٹ ہوتے تھے، جو 2025 میں کم ہو کر 31 اور رواں سال اب تک 6 ہو گئے ہیں۔ملک میں مجموعی طور پر پولیو وائرس کی منتقلی میں 2025 کے بعد کمی آئی ہے تاہم جنوبی خیبر پختونخوا اور خیبر پشاور بلاک جیسے وائرس کے بنیادی مراکز میں پولیو وائرس کی منتقلی بدستور جاری ہے۔
پولیو ایک انتہائی متعدی اور لاعلاج بیماری ہے جو زندگی بھر کے لیے فالج کا سبب بن سکتی ہے اور بعض صورتوں میں موت کا باعث بھی بن سکتی ہے تاہم محفوظ اور مؤثر پولیو ویکسین کے ذریعے اس بیماری سے بچائو ممکن ہے۔ پولیو ویکسین دنیا کے 195 ممالک، بشمول تمام مسلم اکثریتی ممالک، میں محفوظ طریقے سے استعمال کی جا رہی ہے۔2026 میں پاکستان میں اب تک پولیو سے بچاؤ کی چار ملک گیر مہمات منعقد کی جا چکی ہیں، جن کے دوران چار کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو متعدد مرتبہ پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے گئے۔ اس کے علاوہ زیادہ خطرے والے علاقوں میں محدود اور ہدفی زبانی اور انجیکٹ ایبل ویکسینیشن مہمات بھی جاری رہیں۔گزشتہ ماہ ملک بھر میں ذیلی قومی سطح پر منعقد کی گئی پولیو مہم کے دوران دو کروڑ 93 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے محفوظ بنایا گیا۔پولیو کا خاتمہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
این سی او سی کے حکام نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے فرنٹ لائن ورکرز بچوں کو ان کی دہلیز پر ویکسین کی سہولت فراہم کر رہے ہیں جبکہ والدین اور نگہداشت کرنے والوں کا اہم کردار ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو ویکسین کی تمام تجویز کردہ خوراکیں، بشمول معمول کی حفاظتی ویکسینیشن، ضرور دلوائیں۔معاشرے، مذہبی رہنمائوں اور میڈیا کا بھی ویکسینیشن کے فروغ، غلط معلومات کے تدارک اور ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانے میں اہم کردار ہے۔مشترکہ کوششوں کے ذریعے پاکستان کو ایک صحت مند ملک بنانے اور ہر خاندان کے لیے پولیو سے پاک مستقبل یقینی بنانے کے ساتھ کسی بھی بچے کو ویکسین سے محروم نہ رہنے دینے کا عزم کیا جا سکتا ہے۔








