امریکی ٹینس سٹار کوکو گف نے چائنا اوپن میں کامیابی کے بعد سوشل میڈیا پر نسل پرستی پر مبنی بدسلوکی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران انہیں بڑی تعداد میں نسل پرستی پر مبنی تبصرے اور براہِ راست پیغامات موصول ہوئے۔
کوکو گف کو چائنا اوپن میں فتح کے بعد نسل پرست جملوں کا نشانہ بنا دیا گیا

مزید خبریں
بیجنگ ۔6اکتوبر (اے پی پی):امریکی ٹینس سٹار کوکو گف نے چائنا اوپن میں کامیابی کے بعد سوشل میڈیا پر نسل پرستی پر مبنی بدسلوکی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران انہیں بڑی تعداد میں نسل پرستی پر مبنی تبصرے اور براہِ راست پیغامات موصول ہوئے۔
بی بی سی کے مطابق امریکی ٹینس سٹار کوکوگف نے چائنا اوپن میں خواتین کے سنگلز مقابلوں کے تیسرے رائونڈ میچ میں وائلڈ کارڈ پر انٹری حاصل کرنے والی 16 سالہ میزبان کھلاڑی سن شنران کو سٹریٹ سیٹس میں 0-2 سے شکست دے کر ٹاپ 16 رائونڈ کے لئے کوالیفائی کیا ۔کوکوگف نے اس میچ کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر نسل پرستی پر مبنی ٹرولنگ کا نشانہ بننے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ عالمی نمبر 4 کھلاڑی کوکوگف نے بیجنگ میں کھیلے گئے میچ کے پہلے سیٹ میں کورٹ کے اطراف نصب پینل پر فلکرنگ لائٹ کی وجہ سے کھیل روکا تھا، جس کے بعد انہوں نے شاندار واپسی کرتے ہوئے 5-7 اور 1-6 سے کامیابی حاصل کر کے پری کوارٹر فائنل رائونڈ کے لئے کوالیفائی کیا ۔
واقعے کے بعد کوکو گف نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی حریف کھلاڑی نے ان کی معذرت قبول کر لی ہے، لیکن اس کے باوجود انہیں بے شمار نسل پرستانہ پیغامات کے ساتھ ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی کھلاڑی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مجھ سے اختلاف یا ناپسندیدگی کا اظہار نسل پرستی کے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے، وہ نہ تو بددیانت ہیں اور نہ ہی چور۔ یاد رہے کہ ویمنز ٹینس میں کھلاڑیوں کو سوشل میڈیا پر بدسلوکی کا سامنا کرنا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جہاں سال 2025 کے دوران ویمن پلیئرز کو 12,000 سے زائد نازیبا اور ناگواری پر مبنی پیغامات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس پر ڈبلیو ٹی اے اور عالمی ٹینس حکام نے اجتماعی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔








