وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے برطانوی وزیر مملکت اسٹیفن ڈاؤٹی کی ملاقات، انسانی حقوق، انسانی سمگلنگ، کم عمری کی شادیوں کی روک تھام اور سندھ طاس معاہدے پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر برائے قانون ، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے برطانوی وزیر مملکت برائے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان اسٹیفن ڈائوٹی (Stephen Doughty )نے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، انسانی حقوق، خواتین اور بچوں کے تحفظ، انسانی سمگلنگ، کم عمری کی شادیوں کی روک تھام اور علاقائی امن و سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان میں …

اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون ، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے برطانوی وزیر مملکت برائے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان اسٹیفن ڈائوٹی (Stephen Doughty )نے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، انسانی حقوق، خواتین اور بچوں کے تحفظ، انسانی سمگلنگ، کم عمری کی شادیوں کی روک تھام اور علاقائی امن و سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اور برطانوی وفد کے دیگر ارکان بھی اس موقع پر موجود تھے۔

وزارت انسانی حقوق سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ملاقات کے دوران وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا معاملہ خصوصی طور پر اٹھایا اور اس کے پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ اور علاقائی امن و سلامتی پر اثرات پر روشنی ڈالی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی بڑی آبادی زراعت سے وابستہ ہے جبکہ پنجاب ملک کا غذائی مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے وسائل کا تحفظ پاکستان کی معیشت، غذائی تحفظ اور عوامی زندگی سے براہِ راست منسلک ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی معاہدے کے طے شدہ طریقہ کار سے ماورا اقدام ہے اور پانی کے معاملات کو بین الاقوامی قانون اور موجود معاہداتی فریم ورک کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کا مسئلہ خطے کے امن و سلامتی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

برطانوی وزیر مملکت اسٹیفن ڈائوٹی نے پانی سے متعلق مسائل کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات میں تعاون اور رابطہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل زراعت، انسانی سلامتی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی کوششوں سے براہِ راست منسلک ہیں۔ملاقات میں بچوں کے جنسی استحصال، انسانی اسمگلنگ اور جبری شادیوں سمیت خواتین اور بچوں کو استحصال سے محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔وفاقی وزیر نے اس حوالے سے پاکستان کی جانب سے کئے گئے قانونی اور انتظامی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لئے اہم قانون سازی کی گئی ہے اور شادی کی عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شادیوں کے اندراج کے نظام کو قومی ڈیٹا بیس سے منسلک کرنے پر بھی کام جاری ہے جس کے ذریعے شادی کے اندراج کے وقت عمر کی تصدیق کو مؤثر بنایا جا سکے گا اور قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ حکام بروقت کارروائی کر سکیں گے۔ سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے انسانی سمگلنگ اور متعلقہ جرائم کی روک تھام کے لئے امیگریشن، ایئرپورٹ سکریننگ اور پری ویزا کلیئرنس سروسز کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ مجرمانہ ریکارڈ اور متعلقہ معلومات تک رسائی کے نظام کو مرکزی اور خودکار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ باہمی انتظامات کے تحت متعلقہ ممالک کے ساتھ معلومات کا مؤثر اور بروقت تبادلہ ممکن بنایا جا سکے۔دونوں جانب سے انسانی حقوق، خواتین و بچوں کے تحفظ، انسانی سمگلنگ کی روک تھام اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تعاون اور رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔