صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی، شہری آبادی میں اضافے اور ماحولیاتی تنزلی کے باعث بڑھتے ہوئے پیچیدہ خطرات کا سامنا ہے، اس لئے آفات سے نمٹنے کی استعداد کو قومی ترقی کا لازمی جزو اور آئندہ نسلوں کے حوالے سے اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھنا ہوگا،عوام کی قوت کو سائنس، ٹیکنالوجی اور مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ یکجا کرکے ہم ایسا پاکستان …
آفات سے نمٹنے کی استعداد کو قومی ترقی کا لازمی جزو اور اجتماعی ذمہ داری سمجھنا ہوگا،عوام کی قوت کو سائنس، ٹیکنالوجی اور مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ یکجا کرکے بہتر طور تیار پاکستان تعمیر کرسکتے ہیں ،صدر آصف علی زرداری کا یوم قومی استقامت کے موقع پر پیغام
اسلام آباد8اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی، شہری آبادی میں اضافے اور ماحولیاتی تنزلی کے باعث بڑھتے ہوئے پیچیدہ خطرات کا سامنا ہے، اس لئے آفات سے نمٹنے کی استعداد کو قومی ترقی کا لازمی جزو اور آئندہ نسلوں کے حوالے سے اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھنا ہوگا،عوام کی قوت کو سائنس، ٹیکنالوجی اور مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ یکجا کرکے ہم ایسا پاکستان تعمیر کرسکتے ہیں جو کل کی کسی غیر یقینی صورتحال کے لئے زیادہ بہتر طور پر تیار ہو۔ انہوں نے یہ بات قومی استقامت کے دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی جو 8 اکتوبر کو منایا جا رہا ہے ۔
صدر مملکت نے 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے میں جاں بحق ہونے والے ہزاروں افراد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن ان قیمتی جانوں کو یاد کرنے اور ان متاثرین کو سلام پیش کرنے کا موقع ہے جنہوں نے عزم اور حوصلے کے ساتھ اپنی زندگیاں دوبارہ تعمیر کیں۔صدر مملکت نے سوگوار خاندانوں اور ان تمام افراد کو بھی خراج تحسین پیش کیا جو متاثرہ آبادیوں کے مشکل وقت میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ ہماری قومی یادداشت میں آج بھی نقش ہے تاہم اس موقع پر پاکستانی عوام اور اداروں کی جانب سے دکھایا جانے والا غیر معمولی جذبہ ہمدردی، اجتماعی قوت اور بین الاقوامی شراکت داروں کی معاونت بھی ہماری یادوں کا اہم حصہ ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ اس تجربے نے ثابت کیا کہ مشکلات کے وقت ایک دوسرے کی حفاظت اور مل جل کر بحالی کی صلاحیت ہماری سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے، جاں بحق افراد کو سب سے بامعنی خراج عقیدت یہی ہے کہ ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرکے مستقبل میں انسانی جانوں اور آبادیوں کے بہتر تحفظ کے اقدامات کئے جائیں۔
صدر مملکت نے زلزلے کے دوران اظہار یکجہتی اور امداد پر عالمی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سعودی عرب، امریکا، چین، ترکیہ، ایران، جاپان اور کیوبا سمیت ان ممالک کی خصوصی طور پر تعریف کی جنہوں نے پاکستان کی معاونت کی۔انہوں نے قومی ذرائع ابلاغ، فلاحی تنظیموں اور ان لاتعداد رضاکاروں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے متاثرہ آبادیوں کی مدد کے لئے سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کردار قدرتی آفات سے نمٹنے اور ضرورت مندوں کی مدد کے حوالے سے پاکستان کے قومی تجربے کا اہم حصہ ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو آج موسمیاتی تبدیلی، شہری آبادی میں اضافے اور ماحولیاتی تنزلی کے باعث بڑھتے ہوئے پیچیدہ خطرات کا سامنا ہے، اس لئے قدرتی آفات سے نمٹنے کو قومی ترقی کا ایک لازمی حصہ اور آنے والی نسلوں کے لئے ہماری ذمہ داری سمجھا جانا چاہئے، ہمیں ہنگامی صورتحال پر ردعمل دینے کے بجائے خطرات کی پہلے سے نشاندہی اور پیش بندی کی طرف بڑھنا ہوگا جس میں سائنسی علم، قابل اعتماد اعداد و شمار اور جدید ٹیکنالوجی کا کردار مزید بڑھانا ضروری ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) میں نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی (این جی ٹی) متعارف کرانا اس سمت میں ایک اہم قدم ہے، جدید تجزیاتی نظام، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، پیش گوئی پر مبنی ماڈلنگ اور مصنوعی ذہانت ابتدائی انتباہی نظام کو مضبوط بنانے، خطرات کے بہتر جائزے اور باخبر فیصلوں میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں، یہ صلاحیتیں ہمیں آفات کے آنے سے پہلے بہتر تیاری اور سانحہ رونما ہونے کی صورت میں زیادہ مؤثر ردعمل میں مدد دے سکتی ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ استقامت کا انحصار شراکت داری، اعتماد اور وسائل کو اجتماعی طور پر متحرک کرنے کی صلاحیت پر بھی ہے، گلوبل ریزیلینس ہب علاقائی اور عالمی سطح پر زیادہ ہم آہنگی و رابطہ کاری کے لئے قومی اور انسانی ہمدردی سے متعلق اہم شراکت داروں کو یکجا کرکے پاکستان کی قومی استقامت کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اور اہم قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ این جی ٹی اور گلوبل ریزیلینس ہب پاکستان کے ارتقا پذیر قومی استقامت فریم ورک کے معاون عناصر کے طور پر کردار ادا کرسکتے ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ ایک مستحکم اور بااستقامت پاکستان کے لئے ترقیاتی منصوبہ بندی میں خطرات میں کمی کو بھی شامل کرنا ہوگا، گھروں، سکولوں، سڑکوں اور بنیادی خدمات کی منصوبہ بندی اور تعمیر مستقبل کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کے لئے اس کا مطلب محفوظ رہائش، تعلیم اور کام کے مقامات اور یہ اعتماد ہوگا کہ آفت کی صورت میں بھی بنیادی خدمات کا تسلسل برقرار رہے گا، ابتدائی انتباہ، سائنسی تحقیق، تکنیکی جدت اور انسانی امداد کے شعبوں میں علاقائی اور عالمی تعاون کو بھی مزید تقویت دینے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے قومی استقامت کے دن کے موقع پر تمام اداروں، کمیونیٹیز اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ استقامت کو مشترکہ قومی ذمہ داری سمجھیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کی قوت کو سائنس، ٹیکنالوجی اور مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ یکجا کرکے ہم ایسا پاکستان تعمیر کرسکتے ہیں جو کل کے غیر یقینی حالات کے لئے زیادہ بہتر طور پر تیار ہو۔صدر مملکت نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں میں رہنمائی اور ہمارے پیارے وطن پاکستان اور اس کے عوام کی حفاظت فرمائے۔\932








