نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں بالخصوص تجارت، اقتصادی و سرمایہ کاری تعلقات اور کثیرالجہتی فورمز پر روابط کے ذریعے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے

اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں بالخصوص تجارت، اقتصادی و سرمایہ کاری تعلقات اور کثیرالجہتی فورمز پر روابط کے ذریعے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔وزارت خارجہ میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان بحرین تعلقات کا جائزہ لیا اور دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط میں مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔دونوں جانب سے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور اس امر پر زور دیا گیا کہ چیلنجز سے نمٹنے اور تنازعات کے حل کے لئے مذاکرات اور سفارتکاری ہی سب سے قابل عمل ذرائع ہیں۔اس سے قبل پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے افتتاحی کلمات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ مشترکہ وزارتی کمیشن کے تحت تمام دوطرفہ مشترکہ ورکنگ گروپس کے اجلاس منعقد ہوئے اور ان میں نتیجہ خیز بات چیت ہوئی۔ انہوں نے قیادت کی جانب سے تین سال کے اندر دوطرفہ تجارت ایک ارب ڈالر تک دگنی کرنے کے ہدف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک سال گزر چکا ہے، اس لئے باقی مدت میں یہ ہدف حاصل کرنے کے لئے کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

اسحاق ڈار نے خلیج تعاون کونسل-پاکستان آزاد تجارتی معاہدے (GCCFTA) کی جانب پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کی تکمیل سے دونوں فریقوں کو تجارت وسعت دینے اور اپنے اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے درآمدات، برآمدات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے حکومت سے حکومت کی کوششوں کے ساتھ کاروباری سطح پر روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے بحرین نیشنل گارڈ کے لئے 1800 پاکستانی اہلکاروں، جن میں 30 ریٹائرڈ فوجی افسران بھی شامل ہیں، کی بھرتی کو بھی سراہا۔ انہوں نے جون 2026 میں پاکستان کوسٹ گارڈز اور بحرین کی وزارت داخلہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کا بھی خیرمقدم کیا جس کے تحت 13 پاکستانی افسران اور 37 اہلکار بحرینی کوسٹ گارڈ میں شامل ہوئے۔انہوں نے تقریباً ایک لاکھ 34 ہزار پاکستانیوں کی میزبانی پر بحرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان میں بڑی تعداد ہنرمند پیشہ ور افراد کی ہے۔ انہوں نے جون 2026 میں سزا یافتہ قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے کی توثیق کا بھی خیرمقدم کیا اور پاکستانی شہریوں کے لئے بحرین کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کہا کہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے کا بحران بدستور حل طلب ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے سعودی عرب کے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 6 اور 7 اکتوبر کو ہونے والے دہشت گرد حملوں کے ساتھ ساتھ حوثی ملیشیا کی جانب سے شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملوں اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ڈاکٹر الزیانی نے کہا کہ بحرین سعودی عرب کی سلامتی کو اپنی اور خلیج تعاون کونسل کی سلامتی کا لازمی حصہ سمجھتا ہے اور ریاض کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی اور مکالمے و کشیدگی میں کمی کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان اور بحرین کے درمیان قریبی تعاون بالخصوص بین الاقوامی قانون، امن و سلامتی، بحری سلامتی اور جہاز رانی کی آزادی کے امور پر دونوں ممالک کے مابین تعاون کو بھی اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس پیش رفت کا جائزہ لینے، اعلیٰ سطحی دوروں کے بعد پیشرفت کو آگے بڑھانے اور دوطرفہ تعلقات میں پیدا ہونے والی مثبت رفتار کو عملی تعاون میں تبدیل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔