ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے محمد سیف انور جپہ نے کہا ہے کہ8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کی یادیں آج بھی آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک کے لیے تکلیف دہ ہیں،8 اکتوبر پاکستان کی تاریخ کا ایک المناک دن ہے، زلزلے کے نتیجے میں ایک لاکھ کے قریب قیمتی جانوں کا نقصان ہوا جبکہ تقریبا 30 لاکھ شہری متاثر ہوئے
اکتوبر منانے کا مقصد عوام کو قدرتی آفات سے بچا ئو سے آگاہ کرنا ہے،ڈی جی پی ڈی ایم اے

مزید خبریں
لاہور۔8اکتوبر (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے محمد سیف انور جپہ نے کہا ہے کہ8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کی یادیں آج بھی آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک کے لیے تکلیف دہ ہیں،8 اکتوبر پاکستان کی تاریخ کا ایک المناک دن ہے، زلزلے کے نتیجے میں ایک لاکھ کے قریب قیمتی جانوں کا نقصان ہوا جبکہ تقریبا 30 لاکھ شہری متاثر ہوئے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے قدرتی آفات سے بچائو اور آگاہی کے قومی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔محمد سیف انور جپہ نے کہا کہ بچھڑ جانے والوں کے لیے دعا کے ساتھ یہ دن ہمیں قدرتی آفات سے موثر انداز میں نمٹنے اور مستقبل میں جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کرنے کی ترغیب بھی دیتا ہے، 8 اکتوبر منانے کا مقصد عوام کو قدرتی آفات کے دوران احتیاطی تدابیر، حفاظتی اقدامات اور بچا ئوکے طریقہ کار سے آگاہ کرنا ہے، قدرتی آفات کے دوران بروقت احتیاطی اقدامات اور منصوبہ بندی سے جانی و مالی نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔
محمد سیف انور جپہ نے کہا کہ پی ڈی ایم اے پنجاب عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے، ریسکیو اداروں اور متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطے اور تعاون کا ایک منظم نظام موجود ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت اور موثر اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ مون سون بارشوں، سیلاب اور ہیٹ ویو کے دوران پی ڈی ایم اے کے مربوط انتباہی نظام کی بدولت شہریوں کے تحفظ کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں تمام تر انتظامات بروقت مکمل کیے گئے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ گزشتہ سیلاب کے دوران بروقت اقدامات اور موثر انتظامات کے باعث جانی نقصان کو کم سے کم رکھنے میں مدد ملی،قدرتی آفات کا مقابلہ معمول سے ہٹ کر موثر اور غیر معمولی اقدامات کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔







