وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ پنشن کے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والے شخص کو پنشن دینے کا حکم نہیں دیا جا سکتا جبکہ قانونی حق کے تنازعہ کو محض بدانتظامی قرار دے کر وفاقی محتسب کا دائرہ اختیار نہیں بڑھایا جا سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے ای او بی آئی کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصل
ای او بی آئی قانون کی لازمی شرائط پوری نہ کرنے والے کو پنشن نہیں دی جا سکتی، وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ پنشن کے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والے شخص کو پنشن دینے کا حکم نہیں دیا جا سکتا جبکہ قانونی حق کے تنازعہ کو محض بدانتظامی قرار دے کر وفاقی محتسب کا دائرہ اختیار نہیں بڑھایا جا سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے ای او بی آئی کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ، وفاقی محتسب اور صدر پاکستان کے احکامات کالعدم قرار دے دیئے۔چیف جسٹس امین الدین خان نے تین رکنی بنچ کا 12 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ تحریر کیا۔ درخواست گزار کی جانب سے عمر اعجاز گیلانی پیش ہوئے۔عدالت نے قرار دیا کہ وفاقی محتسب پنشن کی اہلیت طے کرنے کے لئے مخصوص قانونی طریقہ کار کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ پنشن کی درخواست مسترد ہونا بذات خود بدانتظامی نہیں، بدانتظامی کے لئے من مانی، امتیازی سلوک، غفلت یا بلاجواز تاخیر جیسے عناصر کا ہونا ضروری ہے۔ تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ قانون کے لازمی تقاضوں پر عمل سے درخواست گزار کو نقصان پہنچنا بدانتظامی نہیں بن جاتا۔ قانونی اہلیت کی لازمی شرط ہمدردی یا انصاف کے عمومی تصور کی بنیاد پر ختم نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے قرار دیا کہ ای او بی آئی قانون کے تحت پنشن کے لئے عمومی طور پر کم از کم 15 سال کی شراکت درکار ہے جبکہ یکم جولائی 2008 یا اس کے بعد بیمہ شدہ ملازمین پر پانچ سال کی خصوصی رعایت لاگو نہیں ہوتی۔ تحریری حکم نامے کے مطابق جاوید اقبال بھٹی کی بیمہ شدہ ملازمت چھ سال سے بھی کم تھی، اس لئے وہ پنشن کے حق دار نہیں تھے۔ پہلے دی گئی 48 ہزار روپے کی اولڈ ایج گرانٹ بھی پنشن کا حق پیدا نہیں کرتی۔عدالت نے کہا کہ فوائد کی اہلیت، رقم اور مدت کا تعین ای او بی آئی قانون کی دفعہ 33 کے تحت ہوگا جبکہ قانون میں فیصلے کے خلاف نظرثانی اور اپیل کا طریقہ کار بھی موجود ہے۔ تحریری حکم نامے میں قرار دیا گیا کہ بغیر دائرۂ اختیار جاری کیا گیا حکم صدر یا عدالت کی توثیق سے بھی قانونی حیثیت حاصل نہیں کرسکتا۔ فیصلے کی وجوہات درج کرنا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ قانونی بنیاد واضح کرنا ضروری ہے۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ قانونی حق کے تنازعہ کو محض بدانتظامی کا نام دے کر محتسب کے دائرۂ اختیار میں توسیع نہیں کی جا سکتی۔







