کے پی حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے لانگ مارچ میں مصروف ہے، وزیراعلیٰ اور وزرا کا کام وڈیوز اور ٹک ٹاک بنانا رہ گیا ہے، انجینئر امیر مقام کی پریس کانفرنس
کے پی حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے لانگ مارچ میں مصروف ہے، وزیراعلیٰ اور وزرا کا کام وڈیوز اور ٹک ٹاک بنانا رہ گیا ہے، انجینئر امیر مقام کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان اور مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات جاری ہیں جبکہ صوبائی حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے لانگ مارچ میں مصروف ہے، صوبے کےوزیراعلیٰ اور وزرا کا کام وڈیوز اور ٹک ٹاک بنانا رہ گیا ہے، دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت، صوبائی حکومت،سیاسی جماعتیں، عوام اور افواج پاکستان مل کر مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نےجمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات مسلم لیگ ن سینیٹر زاہد خان، ایم این اے غزالہ انجم، ایم پی اے علی ہادی اور سابق ایم این اے شہزادہ محی الدین بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار کا تیسرا دور ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس دوران کیا تبدیلی آئی ہے۔ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کو ساڑھے تین سال حکومت کرنے کا موقع ملا، عوام نے ان کی کارکردگی دیکھ لی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی کی وفاق میں حکومت تھی تو اس وقت صوبے کے مسائل حل کرنے اور فنڈز فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ نہیں۔ وزیراعلیٰ اور وزرا کا کام وڈیوز اور ٹک ٹاک بنانا رہ گیا ہے تاکہ بانی پی ٹی آئی اور اپنی پارٹی کو اپنی موجودگی دکھا سکیں۔امیر مقام نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں لیکن صوبے کا وزیراعلیٰ لانگ مارچ کر رہا ہے۔ عوامی مسائل حل کرنا بھی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہےتاہم اس کی کارکردگی صفر ہے اور وہ کھوکھلے نعرے لگا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ جب صوبے میں موجود نہیں ہوں گے اور اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کریں گے تو گورنر، جو وفاق کے نمائندے ہیں، صوبے کے عوام کا حال احوال ضرورپوچھیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ گورنر پر تنقید کس بات کی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ 8 اکتوبر کے زلزلے کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔اس موقع پر متعلقہ اداروں اور ملکی و غیر ملکی غیر سرکاری تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ لانگ مارچ کی تاریخ پر تاریخ تبدیل کی جا رہی ہے جبکہ خیبرپختونخوا کے عوام مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کے راستے بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ لے کر اسلام آباد آئیں، پھر جو فیصلہ کرنا ہوگا، وہ ہو جائے گا۔ ایک بار آگے نکلیں تو سہی تاکہ خیبرپختونخوا کے عوام کو نجات مل سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اسلام آباد کو مفلوج کرنے کی اجازت دی جائے گی۔مذاکرات کے حوالے سے امیر مقام نے کہا کہ مذاکرات کی میز پر تفصیلی بات چیت ہوئی، دونوں جانب سے مثبت گفتگو ہوئی اور مختلف نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشترکہ معاہدے کے نکات بھی طے پا گئے تھے، تاہم آخر میں وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ وزیراعلیٰ جو کسی اور کے اشارے پر چل رہے ہیں، پیچھے ہٹ گئے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ سب مل کر کر سکتے ہیں۔ وفاقی حکومت،صوبائی حکومت،سیاسی جماعتیں، عوام اور افواج پاکستان متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف لڑ سکتے ہیں۔







