نوویک جوکووچ انجری کے باعث سیزن سے باہر ہونے والے جینک سنر کی خیریت دریافت کریں گے
نوویک جوکووچ انجری کے باعث سیزن سے باہر ہونے والے جینک سنر کی خیریت دریافت کریں گے

مزید خبریں
شنگھائی۔9اکتوبر (اے پی پی):ٹینس کے بین الاقوامی شہرت یافتہ سربین کھلاڑی نوویک جوکووچ نے کہا ہے کہ وہ گھٹنے کی انجری کے باعث رواں سال مزید مقابلوں سے باہر ہونے والے اٹلی کے عالمی نمبر ون ٹینس سٹار جینک سنر سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کریں گے۔ ای ایس پی این کے مطابق نوویک جوکووچ کے مطابق طویل وقفے کے بعد کھیل میں واپسی جسمانی اور ذہنی طور پر ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔5 مرتبہ کے گرینڈ سلام چیمپئن جینک سنر نے منگل کو گھٹنے میں سوزش کے باعث رواں سیزن کے بقیہ مقابلوں سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔ وہ آخری مرتبہ جولائی میں ومبلڈن اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے فائنل میں جرمنی کے ٹینس کھلاڑی الیگزینڈر زویروف کو شکست دے کر ایکشن میں نظر آئے تھے جبکہ بعد ازاں دائیں گھٹنے کی انجری کے باعث امریکی اوپن سے بھی دستبردار ہوگئے تھے۔
شنگھائی ماسٹرز کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نوویک جوکووچ نے کہا کہ وہ اپنے کیریئر میں بڑی انجریز کا سامنا کر چکے ہیں اور جانتے ہیں کہ صحت یابی کے بعد مکمل اعتماد کے ساتھ کورٹ میں واپسی کتنی مشکل ہوتی ہے۔ 24 گرینڈ سلام اعزازات جیتنے والے نوویک جوکووچ نے 2017 میں دائیں کہنی کی شدید تکلیف کے باعث سیزن کے بقیہ مقابلوں سے دستبرداری اختیار کی تھی اور بعد میں ان کی سرجری بھی ہوئی تھی۔39 سالہ نوویک جوکووچ نے کہا کہ انجری سے صحت یابی صرف جسمانی معاملہ نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی کھلاڑی کو یہ اعتماد حاصل کرنا پڑتا ہے کہ وہ مکمل طور پر فٹ ہے اور اپنی بہترین کارکردگی دکھا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گھٹنے کی انجری کھلاڑی کی تقریباً ہر حرکت کو متاثر کرتی ہے اور سنر کی کمی ٹینس کو محسوس ہوگی۔انجری کے باعث جینک سنر شنگھائی ماسٹرز، نومبر میں ہونے والے پیرس ماسٹرز اور اے ٹی پی فائنلز میں بھی شرکت نہیں کر سکیں گے۔ وہ پیرس ماسٹرز میں گزشتہ سال حاصل کیے گئے 1000 درجہ بندی پوائنٹس کا دفاع بھی نہیں کر پائیں گے۔ اس کے علاوہ وہ ڈیوس کپ کے فائنل 8 مرحلے میں اٹلی کی نمائندگی بھی نہیں کر سکیں گے۔دوسری جانب نوویک جوکووچ نے حال ہی میں چائنا اوپن جیت کر اپنے کیریئر کا 102واں ٹائٹل حاصل کیا ہے اور اب وہ شنگھائی ماسٹرز میں حصہ لے رہے ہیں۔
سپین کے کارلوس الکاراز بھی جاپان اوپن جیتنے کے بعد شنگھائی میں موجود ہیں جبکہ جرمنی کے الیگزینڈر زویروف بھی ٹورنامنٹ میں شریک ہیں۔الیگزینڈر زویروف نے کہا ہے کہ وہ عالمی نمبر ون بننے کی دوڑ کے بجائے اپنی کارکردگی اور مستقبل کے اہداف پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ جینک سنر کی عدم موجودگی اور درجہ بندی کے پوائنٹس میں ممکنہ کمی کے باعث الیگزینڈرزویروف کے عالمی نمبر ون بننے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔








