ذہنی دباو، بے چینی، ڈپریشن و دیگر نفسیاتی مسائل کو نظر انداز نہ کیا جائے، پروفیسر ڈاکٹر آفتاب آصف

ذہنی دباو، بے چینی، ڈپریشن و دیگر نفسیاتی مسائل کو نظر انداز نہ کیا جائے، پروفیسر ڈاکٹر آفتاب آصف

لاہور۔9اکتوبر (اے پی پی):کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی و میو ہسپتال کے شعبہ سائیکاٹری کے سابق سربراہ معروف ماہرِ امراضِ نفسیات پروفیسر ڈاکٹر آفتاب آصف نے کہا ہے کہ ذہنی صحت انسانی زندگی میں جسمانی صحت کی طرح بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے ذہنی دباو، بے چینی، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی مسائل کو نظر انداز کرنے کے بجائے بروقت توجہ، تشخیص اور مناسب علاج کو یقینی بنانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ ذہنی صحت 2026 کا موضوع زندگی کے تجربات کو سنا جائے، حقیقی آوازیں، حقیقی تبدیلی اس امر کی اہمیت اجاگر کرتا ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کے حقیقی تجربات اور آوازوں کو توجہ اور ہمدردی سے سنا جائے اور ان کے لیے موثر معاونت اور مثبت تبدیلی کو یقینی بنایا جائے۔عالمی یومِ ذہنی صحت کے موقع پر اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدید زندگی کی تیز رفتاری، معاشی و سماجی مشکلات، گھریلو مسائل اور دیگر عوامل ذہنی دبا ومیں اضافے کا باعث بن رہے ہیں تاہم بروقت تشخیص، مناسب علاج، متوازن طرزِ زندگی اور خاندانی تعاون کے ذریعے بیشتر ذہنی مسائل پر موثر طور پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر آفتاب آصف نے کہا کہ مسلسل اداسی، بے چینی، نیند یا بھوک میں نمایاں تبدیلی، ہر وقت تھکن محسوس ہونا، پسندیدہ سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہونا، لوگوں سے میل جول سے گریز، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری اور ناامیدی کے احساسات کو محض کمزوری یا عادت سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ کسی ذہنی صحت کے مسئلے کی علامات ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی بیماری کسی بھی عمر اور سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والے فرد کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے شرمندگی، خوف یا معاشرتی دبا وکو علاج کے حصول میں رکاوٹ نہیں بنانا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ نفسیاتی مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد کو تنقید، طعنوں یا سماجی تنہائی کا شکار بنانے کے بجائے اپنے مسائل کے اظہار کے لیے اعتماد اور حوصلہ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ بچوں اور نوجوانوں کے رویوں میں اچانک اور نمایاں تبدیلیوں کو سنجیدگی سے لیں، ان کی بات توجہ سے سنیں اور تنقید یا ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے انہیں اعتماد اور حوصلہ دیں۔ اسی طرح بزرگ افراد میں تنہائی، عدم دلچسپی اور سماجی سرگرمیوں سے دوری کو محض عمر کا تقاضا سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ماہرِ نفسیات نے کہا کہ مناسب نیند، متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مثبت سماجی روابط اور موبائل فون و دیگر ذرائع ابلاغ کا متوازن استعمال روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جائے تاکہ ذہنی صحت کے مسائل سے بچا ومیں مدد مل سکے۔انہوں نے کہا کہ زندگی کے تجربات کو سنا جائے۔

حقیقی تبدیلی کا پیغام عملی اقدامات میں ڈھلنا چاہیے اور ایسے محفوظ اور معاون ماحول پیدا کیے جانے چاہئیں جہاں لوگ بلا خوف اپنے تجربات اور مسائل بیان کر سکیں اور انہیں بروقت مناسب مدد حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی کو صرف ایک دن تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ گھروں، تعلیمی اداروں، کام کی جگہوں اور معاشرے کے تمام طبقات میں مسلسل آگاہی کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔