چھوٹے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی ضرورت ہے،انتظامی اصلاحات کے ذریعے کراچی سمیت بڑے شہروں کے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں،رکن سندھ اسمبلی سید شارق جمال

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی سید شارق جمال نے کہا ہے کہ ملک کی پائیدار ترقی، سیاسی استحکام اور عوامی خوشحالی کے لئے چھوٹے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے ساتھ ساتھ بااختیار بلدیاتی نظام وقت کی ضرورت ہے، پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور دنیا کے متعدد ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون اور معاہدوں میں دلچسپی رکھتے ہیں

اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی سید شارق جمال نے کہا ہے کہ ملک کی پائیدار ترقی، سیاسی استحکام اور عوامی خوشحالی کے لئے چھوٹے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے ساتھ ساتھ بااختیار بلدیاتی نظام وقت کی ضرورت ہے، پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور دنیا کے متعدد ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون اور معاہدوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جمعہ کو ’’اے پی پی ‘‘کو خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے وسیع آبادی اور متنوع انتظامی ضروریات کے حامل ملک میں اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لئے چھوٹے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدہ قومی مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے، اس عمل کا مقصد عوام کو تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے کو لسانی یا جماعتی اختلافات کے بجائے انتظامی بہتری، عوامی ضروریات اور آئینی تقاضوں کی روشنی میں دیکھا جانا چاہئے جبکہ اس ضمن میں تمام متعلقہ فریقین کی مشاورت اور قومی اتفاق رائے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔سید شارق جمال نے کہا کہ کراچی سمیت پاکستان کے بڑے شہروں کے مسائل کا پائیدار حل بااختیار مقامی حکومتوں، انتظامی اصلاحات، میرٹ پر بھرتیوں اور قوانین پر مؤثر عملدرآمد میں مضمر ہے، منتخب بلدیاتی نمائندوں کو پانی، صفائی، سڑکوں، نکاسی آب اور پبلک ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی شہری مسائل حل کرنے کے لئے مناسب اختیارات اور مالی وسائل فراہم کئے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کو عوامی خدمت کا مؤثر موقع دیا جائے تو وہ کراچی کو ایک ترقی یافتہ اور جدید شہر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔اپنے سیاسی سفر کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 2016 میں مصطفیٰ کمال کی کراچی واپسی اور ان کی سیاسی سوچ سے متاثر ہو کر انہوں نے سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا، 23 مارچ 2016 کو پاک سرزمین پارٹی کے قیام کے بعد وہ اس میں شامل ہوئے اور بطور کارکن اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ بعدازاں پاک سرزمین پارٹی کے ایم کیو ایم پاکستان میں انضمام کے بعد وہ اسی سیاسی پلیٹ فارم سے وابستہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سیاسی اتحاد کے نتیجے میں مختلف لسانی اور ثقافتی پس منظر رکھنے والے افراد ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے جو قومی یکجہتی اور سیاسی ہم آہنگی کے لئے مثبت پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ذاتی اور خاندانی مفادات کے بجائے عوامی خدمت کے جذبے کے تحت سیاست میں حصہ لینا چاہئے، سیاست وقت، محنت، لگن اور قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔سید شارق جمال نے کہا کہ کراچی، حیدرآباد اور اندرون سندھ کے متعدد علاقوں میں تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار اور بنیادی شہری سہولیات کے مسائل بدستور موجود ہیں جنہیں بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی کارکردگی کا جائزہ صرف بجٹ مختص کرنے اور اخراجات کے اعدادوشمار سے نہیں بلکہ عوام کو حاصل ہونے والی سہولیات اور عملی نتائج کی بنیاد پر لیا جانا چاہئے، ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، احتساب اور قابل پیمائش نتائج کو یقینی بنانا ضروری ہے۔کراچی میں پانی کی قلت کو سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر کے متعدد علاقوں میں شہری پانی کے ٹینکروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں جبکہ بعض گھرانوں کو پینے کا پانی بھی خریدنا پڑتا ہے، حکومت کو پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے، پانی چوری روکنے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنا چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو یہ سہولت باقاعدگی سے اور مناسب قیمت پر ملنی چاہئے۔امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سید شارق جمال نے کہا کہ کراچی میں سٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لئے پولیس میں بھرتیاں اور تعیناتیاں میرٹ پر ہونی چاہئیں، پولیس کے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور سیاسی مداخلت میں کمی ضروری ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، فنی تربیت کو فروغ دینے اور کاروبار شروع کرنے کے لئے معاونت فراہم کرنے پر توجہ دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتوں کی توجہ بامقصد قانون سازی، حکومتی کارکردگی کے احتساب اور عوامی مسائل کے حل پر مرکوز ہونی چاہئے، سیاسی اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے تاہم اسے عوامی فلاح و بہبود کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے، صاف پانی، معیاری تعلیم، صحت، روزگار اور شہریوں کے تحفظ کو سیاسی قیادت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے۔ انہوں نے پاکستان کی خوشحالی و ترقی کے لئے مضبوط معیشت، سیاسی استحکام، مؤثر انتظامی ڈھانچے اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کی اہمیت پر زور دیا ۔سید شارق جمال نے کہا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور دنیا کے متعدد ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون اور معاہدوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

مزید خبریں