وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت وزارت قومی صحت کے ذریعے پاکستان قومی ذہنی صحت پالیسی 35 -2026 پر کام کر رہی ہے، ذہنی امراض کے شکار افراد کا علاج ، نگہداشت اور بحالی تمام اکائیوں بشمول حکومت، تعلیمی ادارے،خاندان، سول سوسائٹی، ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں کی اجتماعی کاوشوں سے ہی ممکن ہے
حکومت وزارت قومی صحت کے ذریعے پاکستان قومی ذہنی صحت پالیسی 35 -2026 پر کام کر رہی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا ذہنی صحت کے عالمی دن پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت وزارت قومی صحت کے ذریعے پاکستان قومی ذہنی صحت پالیسی 35 -2026 پر کام کر رہی ہے، ذہنی امراض کے شکار افراد کا علاج ، نگہداشت اور بحالی تمام اکائیوں بشمول حکومت، تعلیمی ادارے،خاندان، سول سوسائٹی، ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں کی اجتماعی کاوشوں سے ہی ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ذہنی صحت کے عالمی دن جو آج (ہفتہ کو) منایا جارہا ہے، کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کیا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ذہنی صحت کے عالمی دن پر پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر ذہنی امراض اور نفسیاتی مسائل کے علاج کی اہمیت پر بھر پور انداز میں آواز اٹھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس امر کا احساس ناگزیر ہے کہ ذہنی صحت کے بغیر جسمانی صحت کا تصور نامکمل ہے، اس سال یہ دن عالمی سطح پر ’’زندگی کے تجربات کو سنا جائے: حقیقی آوازیں، حقیقی تبدیلی‘‘ کے زیر عنوان منایا جارہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ذہنی امراض کے شکار افراد کا نقطہ نظر سننے اور اس کو متعلقہ پالیسیز، خدمات اور فیصلوں میں شامل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ذہنی امراض کے علاج اور صحت کے نظام کو موثر اور مضبوط بنانے کے لیے متاثرہ افراد کے مسائل اور ماہرین کی رائے کی بامعنی شمولیت ہی کامیاب حکمت عملی کی ضمانت ہے۔ ذہنی صحت کا تعلق محض ذہنی امراض سے ہی نہیں بلکہ نوجوان نسل کی ذہنی نشوو نما اور صلاحیتوں کو مکمل بروئے کار لانے کے نظام پر بھی ہے۔ نوجوانوں کی شخصیت سازی ،صلاحیتوں کے نکھار اور ذہنی ارتقاء میں درپیش مسائل کا ادراک انفرادی اور اجتماعی سطح پر ضروری ہے۔ ان مسائل پر توجہ سے ہی بہترین افرادی استعداد اور قابلیت کو قومی ترقی و خوشحالی کے دھارے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ذہنی امراض کی نشاندہی اور علاج کو جسمانی امراض کی طرح انفرادی، خاندانی اور معاشرتی قبولیت کا ماحول چاہیے تاکہ متاثرہ افراد غیر ضروری معاشرتی دبائو سے آزاد ہو کر تمام تر توجہ مرض کے علاج اور صحت کی بحالی پر مرکوز کر سکیں۔ آج بھی بہت سے لوگ ذہنی صحت سے متعلق سماجی بدنامی، بروقت علاج میں تاخیر اور ضروری معاونت کے حصول میں رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ذہنی امراض سے متعلق امتیازی رویہ اور علاج میں ہچکچاہٹ کی صورتحال تبدیل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ حکومت، وزارت قومی صحت کے ذریعے پاکستان قومی ذہنی صحت پالیسی 35 -2026 پر کام کر رہی ہے۔ یہ پالیسی ذہنی صحت سے متعلق قومی لائحہ عمل کو واضح کرتی ہے جو زیادہ قابل رسائی، منصفانہ، حقوق پر مبنی ہو، اس پالیسی پر موثر اور نتائج پر مبنی عملدرآمد حکومت کی ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت متاثرہ افراد کے لیے بروقت تشخیص و مداخلت کے اقدامات کو مضبوط بنانے اور معیاری نگہداشت کے لیے موثر ذرائع تک رسائی کو بہتر کرنےکے لیے پرعزم ہیں۔ حکومت اس تناظر میں صوبائی حکومتوں اور مقامی سطح پر تمام متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر ذہنی صحت کی خدمات کو بنیادی صحت مراکز، تعلیمی اداروں اور کمیونٹی پلیٹ فارمز پر مربوط کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کے تناظر میں بچے، نوجوان، خواتین اور کمزور اور محروم طبقات اور غربت، نقل مکانی، ہنگامی حالات اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے متاثرہ آبادی ہماری خصوصی توجہ کی طلبگار ہے۔ ذہنی امراض کے شکار افراد کا علاج ، نگہداشت اور بحالی تمام اکائیوں بشمول حکومت، تعلیمی ادارے،خاندان، سول سوسائٹی، ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں کی اجتماعی کاوشوں سے ہی ممکن ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ آج ذہنی صحت کے عالمی دن کے موقع پر میں ہر پاکستانی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایسے معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرے جہاں لوگ بلاخوف اور بلا شرمندگی ذہنی صحت پر بات کر سکیں اور صحت مند، فعال اور بھرپور زندگی گزارنے کے لیے اقدامات کر سکیں۔








